ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 26
ب المسيح 26 آسمانی اور زمینی ادب کے محرکات گذشتہ میں بیان ہو چکا ہے کہ آسمانی شعر و ادب کی ایک منفرد اور ممتاز نوعیت ہے۔اس لیے اگر آسمانی شعر و ادب کو ایک ممتاز اور جداگانہ مکتب شعر و ادب کہا جائے تو یقیناً درست ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس مکتب ادب میں زانوئے تلمذ تہ کیے بغیر اس کے حسن و خوبی سے آگا ہی ممکن نہیں ہے۔تاہم اگر فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسان ہونے کے ناطے سے اس کے محرکات ادب بھی ان ہی عوامل کا نتیجہ ہیں جو زمینی ادب کے ہیں۔دید وشنید قلبی احساس اور دماغی شعور، تلاش اور جستجو یہ سب مشترک محرکات و عوامل تخلیق ادب ہیں۔دونوں ادب مشاہدات اور احساسات کو قلب و نظر میں قبول کرنے کے عمل سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور اگر ایسا ہے تو ان کا چشمہ حیات بھی مشترک ہونا چاہیے۔مگر اس وقت یہ معلوم کرنا ہے کہ اس اتحاد کے باوجود وہ کیا عوامل ہیں جن کی عمل داری نے ان دونوں ادبوں میں ایسا اختلاف کیسے پیدا کر دیا ہے کہ ہم ادب آسمانی کو ایک ممتاز اور منفر دمکتب شعر کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔دراصل ان دونوں ادبوں کی باہم دگر ممتاز نوعیت ان ادیبوں کی قلبی ترجیحات اور مقاصد زندگی کے مختلف ہونے سے پیدا ہوتی ہے اور اس بنا پر ہی ان کے مشاہدات اور جذبات کا رخ ایک دوسرے سے مختلف سمت اختیار کر لیتا ہے۔زمینی ادیب کے مشاہدات اس کے ماحول اور تہذیبی ترجیحات کے عوامل سے جنم لیتے ہیں۔اس کے جذبات بھی جسمانی لذت اور شوق کے دائرے میں محصور ہوتے ہیں۔اس کی اقدار حسن و جمال اور اس کی پسند نا پسند بھی زمینی قیود اور حدود سے پیوست ہوتی ہے۔وہ زمینی وابستگیوں اور لذتوں سے باہر نہیں نکلتا وہ اسی میں جنم لیتا ہے اور اسی کی یافت اور نایافت ( یعنی حصول اور محرومی ) اس کے شعر وادب کے عنوانات ہوتے ہیں اور اس کے ادب کے تخلیقی محرکات بھی۔جیسے غالب کا حال ہے کہ اگر عشق کا غم نہیں تو وہ زندگی کے دیگر مصائب میں مبتلا ہے۔غم اگر چہ جانگسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا آسمانی ادیبوں کے مشاہدات اور جذبات یا دائرہ تخلیق ادب اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے اول ایسے کہ ان کی ترجیحات زندگی زمینی نہیں ہوتیں گووہ اس زمین کے باسی ہوتے ہیں اور اسی زمین کے باسیوں کی طرف بھیجے جاتے ہیں مگر وہ اس اعتبار سے سرزمین کے باسی نہیں بھی ہوتے کہ وہ زمینی محبتوں اور لذتوں کی تمنا نہیں رکھتے۔