ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 24
ب المسيح 24 ترجمہ : جب کلام بلیغ اور اعلیٰ ہو تو ضرور دل پر اثر کرتا ہے وگر منطقه مهمل است و خراب چو خواب پریشاں رود بے حساب ترجمہ: لیکن اگر گفتگو بے معنی اور خراب ہو تو وہ خواب پریشاں کی طرح رائیگاں جاتی ہے زباں گرچہ بحرے بود موجزن طلاقت نه گیرد بجز علم و فن ترجمہ: زبان اگر چه طوفانی سمندر کی طرح ہو پھر بھی فصاحت بغیر علم وفن کے نہیں آتی یہاں پر آپ نے اول تو اعلیٰ کلام اور سخن وری کی تعریف کی ہے کہ وہ سیم وزر سے بہتر ہے۔مگر فر مایا کہ اس کی قدر و قیمت اس وقت بنتی ہے جبکہ اس میں ایک ایسا اعتدال اور تناسب ہو جیسا کہ ایک حسین قامت محبوب اور اس کے رخساروں کی سرخی اور اس کے کانوں کے آویزے ہوتے ہیں۔یعنی الفاظ اور معانی ایک حسین جلوہ دکھا رہے ہوں مگر اس جلوہ آرائی کے باوجود اس تناسب لفظی کا موثر ہونا ضروری ہے۔اور اگر ایسا نہیں تو شعر وادب ایک خواب پریشاں کی طرح بے مقصد و مراد ہوتا ہے۔فرمایا: و گر منطقه مهمل است و خراب چو خواب پریشاں رود بے حساب ترجمہ: لیکن اگر گفتگو بے معنی اور خراب ہو تو وہ خواب پریشاں کی طرح رائیگاں جاتی ہے اس مقام تک جو بیان ہوا ہے اس سے یہ امور واضح ہوئے ہیں:۔اول یہ کہ ”ادب“ لفظ و معانی کے ایک حسین اور ترنم خیز ارتباط کا نام ہے اور یہ بھی کہ شعر میں یہ ربط اس وقت قائم ہوتا ہے جبکہ اس میں انسان کی فطرت کے تقاضوں کی عکاسی ہو اور وہ ایک فرد کی قلبی کیفیت کا بیان نہ ہو بلکہ وہ انسان کی کیفیت ہو اور انسانیت کی خوشی اور غم کا ایسا اظہار ہو کہ جس کو سن کر صرف لطف ہی نہ آئے بلکہ زندگی میں ایک انقلاب پیدا کر دے۔اس مقام تک تو تعریف ادب میں آسمانی ادب اور زمینی ادب میں باہم اختلاف نہیں ہے۔مگر جیسا کہ ابتدا میں اشارۃ کہا گیا تھا کہ یہ دونوں ادب اس اتحاد اور اشتراک کے باوجود اپنی نوعیت میں دو مختلف مکاتیب ادب ہیں اور یہ کہ ان دونوں میں باہم فراق اور اختلافی نوعیت محرکات تخلیق ادب اور ترجیحات ادبی کے باہم دگر ممتاز اور مختلف