ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 404
المسيح 404 اے قوم من بصبر نظر سوئے غیب دار تا دست خود به عجز ز بهر تو گسترم! اے میری قوم صبر کیسا تھ غیب کی طرف نظر رکھتا کہ میں اپنے ہاتھ ( خدا کی درگاہ میں ) تیری خاطر عاجزی کے ساتھ پھیلاؤں گر ہمچو خاک پیش تو قدرم بود چه باک چوں خاک نے کہ از خس و خاشاک کمترم اگر تیرے نزدیک میری قدر خاک کے برابر بھی ہو تو کیا مضائقہ ہے خاک تو کیا میں کوڑے کرکٹ سے بھی زیادہ حقیر ہوں لطف است وفضل او که نوازد وگرنه من کرمم نه آدمی صدف استم نه گوھرم! یہ اس کا فضل اور لطف ہے کہ وہ قدردانی کرتا ہے ورنہ میں تو ایک کیڑا ہوں نہ کہ آدمی۔سیپی ہوں نہ کہ موتی ز انگو نه دست او دلم از غیر خود کشید گوئی گہے نبود دگر در تصورم اس کے ہاتھ نے اس طرح میرے دل کو غیر کی طرف سے کھینچ لیا گویا اس کے سوا اور کوئی بھی میرے خواب و خیال میں نہ تھا بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم خدا کے بعد میں محمد کے عشق میں سرشار ہوں۔اگر یہی کفر ہے تو بخدا میں سخت کافر ہوں ہر تار و پود من بسراید بعشق أو از خود تهی و از غم آں دلستاں پُرم میرے ہر رگ وریشہ میں اُس کا عشق رچ گیا ہے میں اپنی خواہشات سے خالی اور اس معشوق کے غم سے پُر ہوں من در حریم قدس چراغ صداقتم دستش محافظ است ز هر بادِ صرصرم میں درگاہ قدس میں صداقت کا چراغ ہوں۔اُس کا ہاتھ ہر باد صر صر سے میری حفاظت کرنے والا ہے۔دنیا سے بے رغبتی فارسی میں فرماتے ہیں کہ اس دل کو جود نیا کا آرام ڈھونڈتا ہے محمد کے دین کی خاطر غم کدہ بنا دو۔دوستان خود را نثار حضر جاناں کنید در ره آن یار جانی جان و دل قرباں کنید اے دوستو اپنے تئیں محبوب حقیقی پر قربان کر دو اور اس جانی دوست کی راہ میں جان و دل نثار کر دو آں دل خوش باش را کاندر جهان جوید خوشی از پئے دین محمد کلبه احزاں کنید اس آرام پسند دل کو جو اس جہان میں خوشیاں ڈھونڈتا ہے محمد کے دین کی خاطر بیت الحزن بنادو