ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 22 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 22

المسيح 22 3۔تیسری نشانی کمال کی یہ فرمائی تو تِی اَكُلَهَا كُلَّ حِينِ یعنی ہر وقت اور ہمیشہ کے لیے وہ اپنا پھل دیتا ر ہے۔یعنی اپنی تاثیرات دکھا تار ہے کیونکہ کلام کا پھل اس کی تاثیر ہی ہوتی ہے۔یہ تو اقدار ادب کا ایک بنیادی اور اصولی بیان ہے۔جس کی ہر شرط کی تفصیل اور تعبیر سے ان گنت ادبی اقدار پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔مگر خاکسار کی ناقص رائے میں جہاں پر اللہ تعالیٰ نے اس موضوع پر قدرے تفصیل سے اور وضاحت سے بیان فرمایا ہے وہ ذیل میں ہے۔فرماتا ہے:۔اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتُبًا مُّتَشَابِهَا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللهِ يَهْدِى بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (الزمر: 24) حضرت اقدس اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ نے بہترین بیان ایک ملتی جلتی ( اور ) بار بار دہرائی جانے والی کتاب کی صورت میں اتارا ہے۔جس سے ان لوگوں کی جلد میں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں لرزنے لگتی ہیں پھر ان کی جلد میں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف مائل ہوتے ہوئے ) نرم پڑ جاتے ہیں۔یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ اس کے ذریعہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔اب دیکھ لیں کہ کس قدر وضاحت سے بیان کیا ہے کہ:۔1 - اللهُ نَزَّلَ۔یعنی موادِ ادب تنزیل ربانی ہو یعنی کامل صدق پر مبنی ہو۔2 - اَحْسَنَ الْحَدِيثِ یعنی لفظ اور معانی کے اختلاط سے ایک حسن پیدا ہوتا ہو۔3- كتابا یعنی مواد میں ایک تعلیم اور کوئی سمح نظر ہو۔-4- مُتَشَابِهًا مَثَانِيَی۔یعنی مواد باہم متضاد نہ ہو۔اور حضرت اقدس کی تفسیر کے مطابق اپنے اندر معقولی اور روحانی دونوں طور کی روشنی رکھتا ہو۔5 تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ یعنی اس کی تأثیر ایسی ہو کہ اس کے پڑھنے سے ان لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یعنی اس کا جلال اور اس کی ہیبت عاشقوں کے دلوں پر غالب ہو جاتی ہے اور وہ قرآن کی قہری تنبیہات اور جلالی تاثیرات کی تحریک سے رات