ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 21 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 21

21 ادب المسيح ادب کی غائت اور مقصود ابلاغ کامل ہی ہے۔اور ابلاغ مؤثر کلام ہی سے پیدا ہوتا ہے۔اس لیے ابلاغ ایک ایسا عصر ہے جس کو حاصل کر نا تمام ادبی تخلیقات کا مطلوب اور منشاء ہوتا ہے۔گذشتہ میں تو ادب کی دو بنیادی اقدار کا زمینی اور آسمانی ادب میں تقابل ہوا ہے۔اب یہ دیکھنا ہے کہ جو چند ایک مزید اقدار ادب بیان ہوئی ہیں (یعنی۔ادب کا آفاقی ہونا۔ادب کا صدق پر مبنی ہونا اور ادب کا مؤثر ہونا )۔ان کی نسبت سے قرآن کریم کیا فرماتا ہے۔قرآن کریم نے محاسن کلام کے موضوع پر بہت سے مقامات میں نشاندہی کی ہے اور اقدار حسنِ کلام بیان کی ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ قرآن کریم اپنے دعاوی کی دلیل خود ہی پیش کرتا ہے۔اور قرآن کا دعوی ہے کہ وہ سب سے حسین کلام ہے۔ہم اختصار کے طور پر دو مقامات کو اختیار کرتے ہیں۔ایک مقام پر تو اصولی اور قدرے مختصر بات کی ہے۔فرماتا ہے:۔أَلَمْ تَرَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةٌ طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِ أُكُلَهَا كُلِّ حِينِ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (ابراهيم: 25، 26) حضرت اقدس ان آیات کے ترجمہ وتفسیر میں فرماتے ہیں:۔کیا تو نے نہیں دیکھا کیونکر بیان کی اللہ نے مثال۔یعنی مثال دین کامل کی کہ بات پاکیزہ درخت کی مانند ہے۔جس کی جڑ ثابت ہو اور شاخیں اس کی آسمان میں ہوں اور وہ ہر ایک وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہو۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔اب اللہ تعالیٰ ان آیات میں کلام پاک اور مقدس کا کمال تین باتوں میں قرار دیتا ہے:۔1۔اول یہ کہ اصلهَا ثَابِت۔یعنی اصول ایما نیہ اس کے ثابت اور محقق ہوں ( صداقت پر قائم ہوں ) 2۔دوسری نشانی کمال کی یہ فرماتا ہے۔وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ یعنی صحیفہ قدرت کا مطالعہ اس کی صداقت کو ثابت کرے اور یہ کہ وہ تعلیم ایمان کے بیان اور اخلاق کے بیان اور احکام کے بیان میں کمال درجہ پر پہنچی ہو۔