ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 23 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 23

23 ادب المسيح دن اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بہ دل و جان کوشش کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔پھر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کے دلوں اور بدنوں پر رقت طاری ہو جاتی ہے۔یعنی ذکر ان کے دلوں میں پانی کی طرح بہنا شروع ہو جاتا ہے“۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ادب عالیہ کی تعریف میں یہ ایک عظیم الشان بیان ہے۔کسی بھی مہذب زبان کے علم تنقید ادب میں ادب عالیہ کی تعریف میں ایسا جامع اور مکمل بیان نہیں ملے گا۔زمینی ادب اور آسمانی ادب کی اقدار میں ہم نے قرآن کے معیار ادب کو پیش کیا ہے۔اب اس موضوع پر مرسلین باری تعالیٰ کے فرمودات بھی سن لیں۔اوّل منصب تو ہمارے پیارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے جوامع الکلم عطا ہوئے تھے اور جو افصح العرب تھے ہفرماتے ہیں: إِنَّ مِنَ الشَّعْرِ لَحِكْمَةً وَّ إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحُرًا ترجمہ: بعض اشعار میں حکمت ہوتی ہے اور بعض بیان تو جادو کا اثر رکھتے ہیں اب دیکھ لیں کہ تعریف ادب میں کس قدر جامع اور مکمل فرمان ہے۔ادب کے دو عناصر (یعنی مواد اور ہیئت ) کوکس کمال سے دو لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔اس فرمان کے مطابق آپ کی نظر میں شعر و ادب میں ایک حکیمانہ عرفان ہونا چاہیے۔یعنی اس کا ناطہ انسان کی فطرت اور اس کے تقاضوں کے ساتھ قائم و دائم ہو اور دوسرے قدم پر الفاظ کا حسن و جمال اور ان کی بندش ایسی ہو کہ انسان کو مسحور کر دے۔جوامع الکلم جو آپ کو عطا کیے گئے ان کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔دوسرے منصب پر حضرت مسیح موعود کو بھی سن لیں۔سخن معدن در و سیم و طلاست اگر نیک دانی ہمیں کیمیاست ترجمہ: کلام تو موتی ، چاندی اور سونے کی کان ہے اگر اس بات کو سمجھ لیا جائے تو یہی کیمیا ہے سخن قامتے هست با اعتدال فصاحت چو خدّ و بنا گوش و خال ترجمہ: کلام کی مثال تو ایک خوبصورت جسم کی ہے اور اس کی فصاحت رخسار اور کان کی لواور تل کی طرح ہے چو گفتار باشد بلیغ و اتم اثر ها کند در دلے لاجرم ہا