ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 286
المسيح 286 اور کہا اے میرے بیٹو اللہ نے یقیناً اس دین کو تمہارے لیے چن لیا ہے پس ہرگز نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ تم اللہ کے پورے فرمانبردار ہو۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا۔مِلَّةَ أَبِيْكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَشْكُمُ الْمُسْلِمِينَ (الحج : 79) مومنو! اپنے باپ ابراہیم کے دین کو اختیار کرو۔اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔اور اسی فرمان کی تفصیلی وضاحت میں خدا تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا۔فرمایا: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام: 163 - 164) آپ حضرت اس آیت کا ترجمہ فرماتے ہیں: " ( مخالفین کو ) کہہ دے ( میں جان کو عزیز نہیں رکھتا) میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا خدا کے لیے ہے وہی حق دار خدا جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے“ اور وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اول المسلمین ٹھہرے تو اس کا باعث یہ ہوا کہ اوروں کی نسبت علوم معرفت الہی میں اعلم ہیں یعنی علم ان کا معارف الہیہ کے بارے میں سب سے بڑھ کر ہے اس لیے ان کا اسلام بھی سب سے اعلیٰ ہے اور اول المسلمین ہیں“ دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) یہ وہ نو ر اسلام ہے جو روز اول سے انبیاء کی تعلیم میں منزل بہ منزل سفر کرتا ہوا ہمارے آقا اور مطاع محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا اور آپ کے بعد آپ کے مہدی اور نائب کو عطا کیا گیا۔اسی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ آپ حضرت کا تمام کلام خواہ تحریر ہو یا تقریر تمام تر صداقت اسلام اور تبلیغ اسلام ہی کے گرد طواف کرتا ہے۔آپ کے اوّل مخاطب عیسائی اور ہندو تھے کہ آپ کے وقت میں ان دو مذاہب کے ماننے والے سب سے بڑے مخالف اسلام تھے اور ان کے بعد آپ کے مخاطب خود مسلمان تھے کیونکہ انہوں نے حقیقی اسلام کو پس پشت ڈال کر من گھڑت عقائد بنالیے تھے اور تعلیم قرآن اور سنت رسول اکرم کے خلاف اسلام کو اختیار کر لیا تھا۔ان عنوانات میں ہم اپنے مضمون ”ابلاغ رسالت میں آپ کا کلام پیش کر چکے ہیں اس لیے زیر نظر مضمون