ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 287
287 ادب المسيح میں صرف وہ کلام پیش کیا جائے گا جس میں آپ حضرت نے اسلام کی حمایت اور اس کی کسمپرسی کے غم اور فکر کا اظہار کیا ہے اور اسلام کے روحانی منصب عالی کو بیان کیا ہے۔دینِ اسلام کی شان میں آپ کا کس قدر خوبصورت شعر ہے مصطفی پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اور فرمایا۔اُس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ان تعارفی الفاظ کے بعد ہم اپنے دستور کے مطابق اول اس عنوان کے تحت قرآنِ کریم کے اصولی فرمودات کو پیش کرینگے یہ اس لیے کہ در حقیقت قرآن کریم کی تمام تعلیم دین اسلام کی دعوت وتبلیغ ہی ہے کیونکہ یہ مختصر مضمون اس تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیئے ہم نہایت اختصار کو لخوض رکھتے ہوئے اوّل قدم پر قرآن کریم کے اصولی اور بنیادی فرمان پیش کرتے ہیں۔إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران : 20) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو سچا دین جو نجات کا باعث ہوتا ہے اسلام ہے اگر کوئی عیسائی ہو جاوے یا یہودی ہو یا آریہ ہو وہ خدا کے نزدیک عزت پانے کے لائق نہیں۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن تُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ (ال عمران : 86) ان دونوں فرمودات کا ترجمہ کرتے ہوئے آپ حضرت فرماتے ہیں: قرآن کریم نے اسلام کی نسبت جس کو وہ پیش کرتا ہے یہ فرمایا ہے إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الإِسْلَامُ (سپاره 3 رکوع 10 ) وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ تُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخُسِرِينَ ( سپاره 3 رکوع 17) ترجمہ: یعنی دین سچا اور کامل اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہے اور جو کوئی بجز اسلام کے کسی اور دین کو چاہے گا تو ہرگز قبول نہیں کیا جاوے گا۔اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہوگا ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) دوسرے مقام پر اسلام کی عظمت اور شان کے بیان میں قرآن کریم نے فرمایا ہے: