ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 10
المسيح 10 مشتمل ہے انہی کمالات پر وہ کلام بھی اشتمال رکھتا ہے جس کو بطور نظیر پیش کیا گیا ہے۔“ ایک اور مقام میں فرماتے ہیں: (براہین احمدیہ ، ر۔خ۔جلد 1 صفحه 474 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) قرآن کریم اپنے اعجاز کے ثبوت میں وَ اِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ (البقرة:24) کہتا ہے۔یہ معجزات روحانی ہیں۔جس طرح وحدانیت کے دلائل دیے ہیں۔اسی طرح پر اس کی حکمت ، فصاحت، بلاغت کی مثل لانے پر بھی انسان قادر نہیں۔دوسرے مقام پر فرمایا: قُل نَّبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِم (بنی اسرائیل : 89) (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) قرآن کریم میں جہاں پر خدا تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور اپنی قدرت اور صفات کو دیگر خداؤں کے مقابل پر پیش کر کے دعوت مقابلہ دی ہے۔جیسے فرمایا: ءَ الهُ تَمعَ الله (النمل: 61) وہاں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی صداقت کے اثبات میں دلائل و براہین دیے ہیں۔جیسے کہ فرمایا: كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ آنَا وَرُسُلي (المجادلة:22 ) اور وہاں پر اپنے کلام کی ادبی برتری اور عظمت کو بیان کر کے قرآن کے مضامین میں ادب پیش کرنے کی دعوت مقابلہ بھی دی ہے اور اپنے ادب کو ادب عالیہ قرار دیا ہے۔دراصل یہی تین عنوانات ہیں جن میں قرآن کریم دعوت مقابلہ دیتا ہے۔دیگر تمام مضامین انہی کے ذیل میں آتے ہیں۔ان گذارشات سے اول تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جن موضوعات پر خدا تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے وہ حقیقت میں ادب عالیہ ہے اور دوم یہ کہ جو بھی قرآنی موضوعات پر کلام پیش کرے گا اس کلام کے حسن و خوبی کو پر کھنے کے لیے جو کسوٹی ہوگی وہ ان موضوعات پر قرآن کریم کے فرمودات اور اُس کا اسلوب بیان ہوگا۔اور اسی پیمانے پر ہم حضرت اقدس کے کلام کے حسن و جمال کی ناپ تول کریں گے اور یہ جائزہ لیں گے کہ آپ نے کس حد تک اتباع قرآن وحدیث کا حق ادا کیا ہے۔اس مقام پر میں نہایت درجہ عاجزی سے عرض کرتا ہوں کہ حضرت اقدس کی بیان کردہ تفسیر قرآن کے مطالعہ کے وقت سے میرے دل میں یہ تمنا تھی کہ قرآن کریم نے جو ادب عالیہ کے معیار اور اقدار بیان فرمائے ہیں ان کو ایک ترتیب کے ساتھ پیش کروں تا کہ اس طور سے زمینی اور آسمانی ادب کا ایک تقابلی مواز نہ ہو جائے۔مگراب جبکہ ادب امسیح پر گذارشات پیش کرنے کا وقت آیا ہے تو یہ خیال راسخ ہو گیا کہ یہ دونوں موضوعات باہم پیوست اور یک جان ہیں۔اس لیے ان کو ایک ہی وقت میں بیان کرنا بہتر ہوگا۔چنانچہ اس نقطہ نظر کے ساتھ یہ کوشش