ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 11 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 11

11 ادب المسيح ہوگی کہ انتقاد ادب کے بنیادی موضوعات یعنی تعریف ادب اور محرکات تخلیق ادب کا ایک تقابلی جائزہ لیا جائے کہ ان موضوعات پر قرآن کریم یعنی آسمانی ادب اور زمینی ادب کی اقدار و معیار میں کس مقام تک باہم اتفاق ہے اور اس سفر کے کس دوراہے پر دونوں ادبی تخلیقات کی منزل مقصود مختلف ہو جاتی ہے۔ایسا جائزہ لینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ جب تک کسی ادب کے مقاصد تخلیق اور اس کی ترجیحات کا علم اور اس سے قلبی موافقت نہ ہو تو اس ادب کی حقیقی عظمت اور شان کا شعور حاصل نہیں ہوسکتا۔غالب نے یہی بات کتنی سادہ زبان اور کس قدر حسن و جمال کے ساتھ بیان کی ہے۔دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے یعنی شعر کی لذت سامع کے قلبی جذبات سے پیدا ہوتی ہے۔اس بیان کے تسلسل میں ایک وضاحت اور بھی کردوں کہ قرآن کریم کی ادبی اقدار کو پیش کرنے میں ہم اول تو حضرت اقدس کے تفسیری معنوں سے راہ نمائی حاصل کریں گے اور آپ کے اختیار کردہ فرمودات قرآن پیش کریں گے۔حق بات تو یہی ہے کہ قرآن کریم کی تفہیم اس ہستی ہی کو زیب دیتی ہے جس نے یہ کہا ہے۔علمِ قرآن علم آں طیب زباں علم غیب از وحی خلاق جہاں ترجمہ: قرآن پاک کا علم اس پاک زبان کا علم اور الہام الہی سے غیب کا علم این سه علم چون نشانها داده اند ہر سم ہمیچوں شاہداں استاده اند ترجمہ: یہ تین علم مجھے نشان کے طور پر دیے گئے ہیں اور تنوں بطور گواہ میری تائید میں کھڑے ہیں۔اس وقت تک جو کچھ کہا گیا ہے اس کے باوجود اس امر سے بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ قرآن کریم اور مرسلین باری تعالیٰ کا ادب عالیہ ہونا اور دیگر ادبی تخلیقات سے برتر ہونا، انہی اقدار ادب پر موقوف ہے جو اس زبان کے ادب میں مسلم اور جاری ہوتے ہیں۔کیونکہ امتزاج لفظ و معانی جس سے ادبی حسن و خوبی پیدا ہوتی ہے ایک ہی ہوتا ہے۔اس لیے ان ہی کے اسالیب ادب اور اساتذہ شعر کے مقابل پر حضرت اقدس کے ادب پاروں کے محاسن کو بیان کرنا بھی از بس ضروری ہوگا جن زبانوں میں حضرت اقدس کا کلام وارد ہوا ہے ( یعنی اردو، فارسی اور عربی)۔