آداب حیات — Page 230
۲۳۰ وہ شخص آیا اور بہت زیادہ کھا گیا۔ابن عمر نے کہا۔اسے نافع ! اب تو می پاس اس کو نہ لانا ہیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مومن ایک آنت بھر ہیں کھاتا ہے اور کا فرسات انت بھر کھاتا ہے۔د بخاری کتاب الاطعمه باب المومن ياكل في معنى واحد ) ۱۹۔کھانے میں کبھی نقص نہیں نکالنا چاہیے کیونکہ اس سے لپکانے والے کی دل شکنی -19 ہوتی ہے۔حضرت ابو سر یہ فرماتے ہیں۔مَاعَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلِيهِ وَسَلَّمَ طَعَا مَاتَ اِنِ اشْتَهَاهُ اكَلَهُ وَإِن كَرِعَهُ تَرَكَة دستجاری کتاب الاطعمته باب ما عاب البنى طعاماً قط ) کہ آپ نے کیا کھانے کو انہیں یا اگر امام ہوتا توکھالیتے اور اگرچھا نہ معلوم ہوتا تو نہ کھاتے۔حضرت خالدبن ولیڈ سے روایت ہے کہ وہ رسول کریم کے ساتھ میمونہ کے ہے وہ پاس جو ان کی اور ابن عباس کی خالہ تھیں گئے۔ان کے پاس بھتا ہوا سوسمار (گوہ) دیکھا۔میمونہ نے آنحضرت کے سامنے سوسمار پیش کیا اور بہت کم ایسا ہوتا کہ آپ اپنا ہاتھ کسی کھانے کی طرف بڑھاتے جب تک کہ آپ سے بیان نہ کر دیا جاتا یا تبلا نہ دیا جاتا کہ کیا ہے۔چنانچہ آپ نے اپنا ہا تھ سوسمار کی طرف بڑھایا۔جو عوز میں آپ کے سامنے حاضر تھیں ان میں سے ایک نے آپ کو بتا دیا کہ حضور یہ سوسمار ہے۔آپ نے اپنا ہا تھ کھینچ لیا۔خالد بن ولید نے عرض کیا۔یارسول اللہ۔کیا سوسمار حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔لیکن میر ملک میں نہیں پایا جاتا۔اس لئے میری طبیعت اس کو نا پسند کرتی ہے۔خالد بن ولیہ کا بیان ہے کہ میں نے اس کو آنحضرت کے سامنے سے کھینچ لیا اور میں نے اس کو کھایا حالانکہ رسول اللہ میری طرف دیکھ رہے تھے۔استخاری کتاب الاطعمة باب ما كان البنى لا یا کل حتی بیمی را قبعلم ماهو