آداب حیات

by Other Authors

Page 229 of 287

آداب حیات — Page 229

۲۲۹ بواسطه این عمر روایت کرتے ہیں کہ ابن عمرف ایک دفعہ رات کا کھانا کھا رہے تھے حالانکہ انہیں امام کی قرات سنائی دے رہی تھی۔(بخاری کتاب الا طعمه باب اذا حضر العشاء ولا يعمل عن عشائه ۱۷ بلا ضرورت کھڑے ہو کر کھانا نہیں چاہیے۔لیکن بوقت ضرورت کھڑے ہو کر کھایا جاسکتا ہے۔حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں هم بوقت ضرورت چلتے ہوئے کھا پی لیتے تھے۔۔JA (ترمذی ابواب الاشربہ باب ما جارتي المختص في الشرب قائماً ) پیٹ بھرنے سے پہلے کھانا چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ مومن کم خور ہوتا ہے۔حضور اکرم کی خوراک بہت کم اور سادہ تھی۔اس بات کی شہادت حضرت ابو ہر بریانی یوں دیتے ہیں کہ آنحضرت اس دنیا سے تشریف لے گئے مگر کبھی جو کی روٹی بھی بیٹ مھر کر نہ کھائی۔د تجر به بخاری حصہ دوم من الم) حضرت ابن عمرض سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک آنٹ بھر کھانا ہے اور کا فرسات آنتوں میں کھاتا ہے۔تجرید بخاری جمعه دوم هش (م) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بہت پر خور تھا۔پھر وہ سلمان ہو گیا تو بہت کم کھانے لگا۔جب یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مومن ایک آنت بھر کھانا ہے اور کافرسات آنتوں میں کھاتا ہے۔ربخاری کتاب الاطعمة باب المؤمن يأكل في معنى واحد) نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کہ ایک مسکین ان کے پاس نہیں لایا جاتا تھا جو ان کے ہمراہ کھانا کھائے۔چنانچہ