آداب حیات

by Other Authors

Page 231 of 287

آداب حیات — Page 231

۲۳۱ ۲۰ - اکٹھے بیٹھ کر کھانا تناول کرنا چاہیئے۔کیونکہ مل کرکھانا کھانے نہیں برکت ہوتی ہے۔جب اکٹھے مل کر کھانا کھایا جائے تو حرص اور جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا جائے ، وحشی بن حرب سے روایت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے عرض کیا۔یارسول اللہ ! ہم کھاتے ہیں اور سیر نہیں ہوتے۔فرمایا شاید تم اکیلے اکیلے کھاتے ہو۔انہوں نے کہا جی ہاں۔فرمایا کھا نام کر کھایا کردا رسم اللہ پڑھ کر کھایا کہ وہ تمہارے لئے اس کھانے میں برکت ہوگی۔ابو داو و کتاب الاطعمة باب في الاجتماع على الطعام) حضرت ابو سر یہ کہا سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔دو آدمی کا کھانا تین کو کفایت کرتا ہے اور تین کا چار کو۔سلم کتاب الاشربة باب فضيلة المواساة في الطعام القليل) اور حضرت جابر سے روایت ہے کہ ایک آدمی کا کھانا دو کو اور دو کا چار کو اور چار کا آٹھ کو۔(مسلم کتاب الاشربة باب فضيلة المواساة في الطعام القبيل) کھانا پیش کرتے وقت دائیں پہلو کا لحاظ رکھنا چاہئے۔"3۔سید نا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب کا اس قدر لحاظ رکھا کرتے تھے کہ اگر آپ کے پاس اس قدر چیز ہوتی جو صرف ایک آدمی کے لئے کافی ہوتی تو اسے دیتے جو دائیں جانب بیٹھا ہوتا۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول کریم کو دائیں طرف سے کام کرنا سب کاموں میں پسند تھا۔بخاری کتاب الاطعمه باب القيمين في الاكل وغیرہ) ۲۲ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا نہیں کھانا چاہیئے۔