آداب حیات — Page 247
۲۴۷ ۲۰ اگر کوئی غریب شخص دعوت کرے اور وہ مراد کو بلائے تو اُمراء پر نادم ہے کہ وہ اس کی دعوت میں شریک ہوں۔اگر وہ امیر غریب کی عزت کی وجہ سے دعوت کو ر ڈ کر دے تو ایسا شخص خدا اور اس کے رسول کا نافرمان شمار ہوگا۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔كور عيتُ إلى كراع لا جنت ر شمائل ترمذی باب ما جاء فی تواضع رسول الله ) یعنی اگر کوئی غریب شخص بکری کا ایک گھر یا پا یہ پکا کر بھی مجھے اپنے گھر پر بلائے تو میں اس کی دعوت کو ضرور قبول کروں گا۔اسلامی تعلیم عزیوں اور امیروں کے درمیان تمدنی تعلقات کو فروغ دینے اور انہیں ایک ہی خاندان کا فرد سمجھنے کے لئے ایسے شہری اصول قائم کرتی ہے جو معاشرے کی سالمیت اور باہمی محبت کے لئے ضروری ہیں۔۳۱ دعوتوں میں اپنے ہمسایوں کو بھی ضرور بلانا چاہئیے انہیں اپنی خوشیوں میں ضرور شریک کرنا چاہئیے۔حضور اکرم صلی الہ علی کل فرماتے تھے کہ قرابت نواز کی حسن خلق اور خوشگوار ہمسائیگی سے بتیاں آیا د ہوتی ہیں اور تحریں دراز ہوتی ہیں۔(کنز العمال کتاب الثالث باب في الاخلاق والافعال المحمودة باب صلة الرحم والترغيب فيها والترهيب من قطعها ) ( ۲۲ ) دعوتوں میں تکلف اور اسراف سے کام نہیں لینا چاہیئے۔کیونکہ اسراف کرنا شیخی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُختَالِ فَخَورِه (سورۃ لقمان : (۱۹) اللہ تعالے پر سختی کرنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔