آداب حیات

by Other Authors

Page 227 of 287

آداب حیات — Page 227

۲۲۷ حدیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم کھانے سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے۔اَلحَمدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ المُسلِمِين ( ترمذی کتاب الدعوات باب ما يقول اذا فرغ من الطعام) سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے نہیں کھلایا اور پلایا اور مسلمان لعینی اطاعت شعار بنایا۔حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ نبی کریم کے آگے سے جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو فرماتے۔الحَمدُ لِلَّهِ حَمْداً كثيراً طيباً مُبَارَكَا فِيهِ غَيْرَ مَلُفِي وَ لا مُسْتَغْنِي عَنْهُ لابنا د بخاری کتاب الاطعمة باب ما يقول اذا فرغ من طعامه) اور ایک حدیث میں غیر مکفی کے بعد وَلَا سُودَع وَلَا مُسْتَغْنِي عَنْهُ لا بنا کے الفاظ آتے ہیں۔شمائل ترمذی باب ما حیاء فی صفه وضو رسول الله عند الطعام ) ترجمہ و سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔بہت بہت تعریفیں ، پاک تعریفیں، اور برکت والی تعریفیں کہ جو ایک دو کر پریس کرنے والی نہ ہوں۔جو چھوڑی نہ جائیں جن کی عادت ہمیشہ رہے۔اسے ہمارے رب! اور نہ ہی تعریف کرنے پر غفلت یا نے ایزی برتی جائے اور یہ کہ آج کے انعام پر ہی لیں نہ ہو، بلکہ اسے ہمارے رب یا تو ہمیشہ ہم پر انعام کو تازہ۔بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ کبھی ان الفاظ میں دُعا مانگا کرتے تھے۔الحمد لله الذي كَفَانَا وَار رانا عير سكني ولا مَكْفُورٍ ابخاری کتاب الاطعمة باب ماذا يقول اذا فرغ من طعامه)