آداب حیات — Page 228
۲۲۸ یعنی سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہماری بھوک اور پیاس دور کی۔ہمارا دل اس کی تعریف سے کبھی نہ بھرے اور ہم اس کی کبھی ناشکری نہ کریں۔حضرت معاذ بن انس روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا۔جوشخص کھانا کھانے کے بعد کہے۔اَلحَمدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَى هَذَا وَرَنَا قَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنى ولا قوة ( ابوداؤ د کتاب اللباس باب اول ترجمہ و تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے کھانا کھلایا اور جس نے یہ کھانا بغیر میرے خیلے اور قوت کے عطا کیا۔تو اس کے اگلے پچھلے گناہ سمجھتے جاتے ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ شکر گزار کھانے والا صبر کرنے والے روزہ دار کی مانند ہوتا ہے۔بخاری کتاب الاطعمته باب الطاعم الشاكر مثل الصائم الصايم ) -۵- کھانا تیار کرنے والے اور کھانا لانے والے خادم کو بھی کھاتے ہیں سے حلقہ دینا چاہیئے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی شخص کے پاس اس کا خادم کھانا لے کر آئے اور وہ اس کو اپنے ساتھ نہ بٹھائے تو اس کو ایک یا دد لقتے دے دے اس لئے کہ اس نے دریا در چی خانہ کی گرمی اور اس (کھانا) کی تیاری کی مشقت برداشت کی ہے۔-14 دستیخاری کتاب الاطعمة باب الاكل مع الخادم ) ۱۷ رات کا کھانا سامنے آجائے تو عشاء کی نماز میں جلدی نہیں کرنی چاہیئے۔حضرت انس بن مالک بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب رات کا کھانا آ جائے اور نماز کی تکبیر کہی جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔ایوب نافع سے