آداب حیات — Page 199
149 - اُمراء یا سرداران قوم سے ملاقات کی اجازت طلب کرنے کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ تعارفی کارڈ یا رقعہ لکھ کر خادم کے ذریعہ اندر اطلاع بھجوائی جائے اور پھر ملاقات کے وقت اسلام علیکم کہا جائے۔حضور اکرم ہمیشہ ملاقات کی استدار السلام علیکم کے الفاظ سے کرتے تھے۔ملاقات کے لئے اگر کسی کے گھر جائیں تو دروازوں کی درزوں میں سے جھا سکتا نہیں چاہیئے۔یہ بہت بُری حرکت ہے اور حضور اکرم اسے سخت نا پسند فرماتے تھے۔حضرت سہل بن سعد سے بیان ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ ہوتم کے مجروں میں سے کسی ایک مجرے میں جھانک کر دیکھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں سر کھلانے کا آلہ تھا جس سے آپ اپنا سر کھلا رہے تھے۔آپ نے فرمایا۔کہ اگر میں جانتا کہ تو جھانک کر دیکھے گا تو میں اس سے تیری آنکھ میں مارنا۔اجازت غیر محرم کے دیکھ لئے جانے ہی کی وجہ سے مقرر کی گئی ہے۔دبخاری کتاب الاستیذان باب الاستيدان من اجل البصر) حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں میں سے کسی ایک جھرے میں دیکھا۔آپ تیر کا ایک پھلا ہے کر یا کئی پہلے لے کر اس کی طرف لگے اور حضرت انسان کا بیان ہے کہ گویا آپ اس شخص کو ڈھونڈ ر ہے ہیں تاکہ اس کو وہ پچھلے ماریں۔بخاری کتاب الاستیذان باب الاستیذان من اجل البصر) 11۔گھروالے اگر پوچھیں کہ کون ملنے کے لئے آیا ہے ؟ تو جواب میں اپنا نام بنانا چاہیے میں کے لفظ میں جواب نہیں دینا چاہئیے۔حضرت جابر سے روایت ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے سلسلہ میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔میں نے دروازہ کو کھٹکھٹا یا۔آپ