آداب حیات — Page 200
۲۰۰ نے فرمایا۔کون ہے ؟ میں نے کہا ئیں ہوں۔آپ نے فرمایا یہیں ہیں۔گویا کہ آپ نے اُسے ناپسند فرمایا۔(بخاری کتاب الاستیذان باب اذا قال من ذا فقال أنا ) ۱۲۔ملاقات کے لئے کسی کے گھر اگر جایا جائے تو ممتاز مقام پر بیٹھنے سے پر ہیز کرنی چاہیئے۔نیز اہل خانہ نے اگر اپنے لئے کوئی نشست مخصوص کی ہو تو اس پر بیٹھنے سے اجتناب کیا جائے۔سوائے اس کے اہل خانہ خود وہ جگہ پیش کرے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و ستم جب کسی کے گھر تشریف ہے۔جاتے تو ممتاز مقام پر بیٹھنے سے پر بہیتر فرماتے۔ایک بار آپ حضرت عبد اللہ بن عمر کے مکان پر تشریف لے گئے۔انہوں نے آپ کے بیٹھنے کے لئے چمڑے کا ایک گدا ڈال دیا۔لیکن آپ زمین پر بیٹھ گئے اور گدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبید اللہ بن عمرہ کے درمیان آگیا۔بخاری کتاب الاستیذان باب من القى له وسادة) ۱۳ طلاقات کے لئے ہمیشہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔رم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق کی معراج پر تھے۔آپ کے حسن اخلاق کی گواہی قرآن مجید میں ان الفاظ سے دی گئی ہے إنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمُ (سورة القلم : ٥) : ۵) کہ آپ اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر فائز ہیں آپ خود فرماتے تھے۔بعثت لاتمم مكارم الاخلاق (موطا كتاب الجامع باب ماجاء فی حسن الخلق ) کہ میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ عمدہ اخلاق کی تکمیل کروں۔