آداب حیات — Page 14
پڑھتے، الرحمن کو لمبا کر کے پڑھنے اور اسی طرح الرحیم کو لمبا کر کے پڑھتے تھے۔حضرت اُم سیارہ سے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا۔قرءةٌ مُفَسَّرَةً حَرُفًا حَرْفًا ر ترمذی ابواب فضائل القرآن باب ما جأ كيف كانا قرأة البني) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت بالکل واضح ہوتی تھی اور ہر حرف جدا جدا ہوتا تھا۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے۔كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقطعُ قِرَأَتَهُ يَقُولُ اَلحَمدُ لِلّهِ رَبّ الْعَالَمِينَ تُقِفُ ثُمَّ يَقُولُ الرَّحْمنِ الرَّحِيم تو يقف ترندی ابواب القرأة عن رسول الله) که نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم قرآن مجید جدا جدا کر کے پڑھتے تھے یعنی الحمد لله رب العالم تین پڑھ کر ٹھہر جاتے تھے پھر الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ پڑھ کر پھر جاتے تھے۔یعنی درمیان میں وقفہ فرماتے تھے۔قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کے بارہ میں ارشاد نبوی ہے يُقَالُ يصاحب القرآنِ اقْرَ أَوَاهُ مَا وَرَ تِلْ كَمَا كُنتَ تُريلُ في الدنيا فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ الحَرايَةٍ نَقَرَاهَا۔) مسند احمد بن حنبل جلد دوم 19 مطبع میمنته مصر)۔قیامت کے دن صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا چلا جا اور حبت کے درجات میں ترقی کرتا چلا جا اور ٹھہر ٹھہر کہ پڑھ جب کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا تیرا مرتبہ وہی ہے جہاں آخری آیت پر پہنچے۔