آداب حیات — Page 15
قرآن مجید کی ہر روز با قاعدگی کے ساتھ تلاوت کرنی چاہیے۔اس کے پڑھنے کے لئے وقت کی تخصیص نہیں ہے۔جب بھی وقت میسر ہو اس پاک کلام کو پڑھنا چاہیے جب کہ سورۃ المزمین میں ارشاد باری تعالی ہے۔فَاقْرَرُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ القُرانِ (سورة المزمل : ٢١) کہ قرآن مجید میں سے جتنا بھی میسر ہو پڑھ لیا کرو۔انسان جب چاہے اور جس وقت چلا ہے وہ کلام پاک کی تلاوت کر سکتا ہے لیکن فجر کے وقت قرآن مجید پڑھنا ایک مقبول عمل ہے جب کہ اللہ تعالیٰ سورہ بنی اسرائیل میں فرمانا ہے ان قرانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوداً (سورة بنى اسرائيل : (۹) یقینا فجر کا قرآن پڑھنا اللہ کے حضور پیش ہونے والی چیز ہے۔قرآن مجید پڑھنے والا جب قرآن مجید کا ایک دور مکمل کرتا ہے تو یہ دعا مانگتا ہے جو قرآن مجید کے آخر پر دعائے ختم القرآن لکھی ہے۔وَارْزُشی تِلَاوَتَة ناء اليلِ وَأَنَاءَ النَّهَارِ (دعاء ختم القران) اے اللہ تعالیٰ مجھے قرآن مجید کی تلاوت کی توفیق بخش رات کی گھڑیوں میں اور دن کی گھڑیوں میں بھی۔اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔وَاتْلُوهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ إِشَاء اللَّيْلِ وَأَمَا وَ النَّهَارِ قرآن مجید کی تلاوت کا جو حتی ہے اسی کے مطابق تلاوت کیا کرو۔رات اور دن کے اوقات ہیں۔(شعب الایمان للبی نفی جلد درم من ۳۵ مطبوعہ دارالکتب العلمیة بیروت لبنان) حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو