آداب حیات

by Other Authors

Page 149 of 287

آداب حیات — Page 149

۱۴۹ جہنم میں جا پہنچتا ہے۔اگر انسان ہنسی مذاق میں ہی جھوٹ کی عادت ڈال دے تو پھر وہ سنجیدہ جھوٹ میں منتقل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔واجْتَنِبُوا قول النُّورِ (سورة الحج : ۳۱) جھوٹ بولنے سے بچو انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ صادق القول اور راستباز تھے۔آپ جھوٹ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرتے تھے اور فرماتے تھے۔وہ جھوٹ حرام ہے جو محض ہنسانے اور خوش کرنے کے لئے ہو۔آپ فرماتے تھے۔ہلاکت ہے اُس شخص کے لئے جو بات کر تا ہے اور اس میں جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو منائے۔اس کے لئے ہلاکت دنیا ہی ہے پھر اس کے لئے ہلاکت دتیا ہی ہے۔د ابو داؤ د کتاب الادب باب التشديد في الكدب) حضرت اسماڑ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا۔یا رسول اللہ ! میری ایک سکوت ہے۔بیس کیا یہ امر گناہ ہے کہ میں اپنے خاوند کی طرف سے ان نوازشات کا اظہار کر دی جو مجھ پر نہیں ہوائیں و حضور نے فرمایا۔اس چیز کو ظاہر کرنے والا جو اس کو نہیں دی گئی ایسا ہی ہے جیسے جھوٹ کے کپڑے پہنے والا۔( جو کسی کے ہوں اور اپنے جائے بھید کھلنے پر شرمندہ ہو) ر مسلم کتاب اللباس والہ نیفته باب النهي عن التزوير في اللباس وغير ) جھوٹی گواہی کبھی نہیں دینی چاہیئے خواہ وہ اپنے ماں باپ حقیقی بھائی بارشتہ وار کے متعلق ہو۔کیونکہ جس شخص کی جھوٹی گواہی کا ایک بار تجربہ ہو جائے تو اس کی گواہی۔19 قابل قبول نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی صفت یہ بیان فرمائی ہے۔والَّذِينَ لا يَشْهَدُونَ التروس (سورة الفرقان : ٢٣) النُّور ۷۳)