آداب حیات

by Other Authors

Page 150 of 287

آداب حیات — Page 150

۱۵۰ اور وہ لوگ جھوٹی گواہیاں نہیں دیتے۔حق بات کہتے ہیں کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیئے۔آپ فرماتے تھے۔کہ ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا بہت بڑا جہاد ہے۔ترمذی ابواب الفتن باب افضل الجهاد كلمته عدل عن سلطان جائم جب کسی معاملہ میں شہادت دینی پڑے تو جھوٹی گواہی نہیں دینی چاہیئے۔کیونکہ جان بوجھ کر جھوٹا بیان دینا اور جھوٹی قسم کھانا اتنا بڑا گناہ ہے جو شرک کے قریب جاپہنچتا ہے۔آپس کے معاملات میں ہمیشہ سچی بات کہنی چاہیئے اور سچی گواہی کو چھپاتے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ میں فرماتا ہے۔وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ، وَمَن يَكْتُههَا فإنه اثم قلبه ( سورة البقره : ۲۸۴) اور تم گواہی کو کبھی مت چھپاؤ۔اور جو اسے چھپائے گا وہ یقیناً ایسا شخص ہے جس کا دل گنہگار ہے جھوٹی قسم بھی نہیں کھانی چاہیئے۔۲۰ بات بات میں قسم نہیں کھانی چاہئیے۔بعض لوگوں کو عادتاً باللہ واللہ کہنے کی عادت ہوتی ہے۔قرآنی آیت لا يُؤَاخِذُ كُمُ اللَّهُ بِاللَّغُونِي أَيْمَانِكُمُ (سورۃ المائده : ۹۰) کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری لغو قسموں کے بارے میں مؤاخذہ نہیں کرے گا۔لیکن قرآن مجیب میں مومن کی یہ صفت بیان ہوئی ہے۔هُمُ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ کہ وہ لغو قسم کی باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔غیر اللہ کی اور ناحق قسم کبھی نہیں کھانی چاہیئے۔(المومنون (۴) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول کریم نے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے