آداب حیات

by Other Authors

Page 148 of 287

آداب حیات — Page 148

۱۴۸ کی سالمیت اور امن کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ الحجرات میں فرماتا ہے۔آيَاتُهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَ كُمُ فَاسِقُلْ بِنَبَا فَتَبَيَّنُوا ان تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتَصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَبِمِينَ۔(سورة الحجرات : ) اے مومنو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی اہم خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلیا کرد ایسا نہ ہو کہ تم نا واقعی سے کسی قوم پر حملہ کر دو۔اور پھر اپنے کئے پر شرمندہ ہو جاؤ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر سنی ہوئی بات کو بے سوچے سمجھے پھیلا دینا انسان کے لئے بڑا جھوٹ بن جاتا ہے ابو داؤد کتاب الادب باب التشديد في الكذب) ایک دور سے بات سن کر بغیر تحقیق کے باتیں پھیلا دینا گناہ ہے کیونکہ اس طرح ایک آدمی کی عزت پر ناحق حملہ ہو جاتا ہے اور وہ بدنام ہو جاتا ہے۔حدیث میں ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب ہوگا۔حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ وہ شخص جس کو تم نے (معراج کی رات میں) دیکھا تھا کہ اس کے جبڑے چیرے جارہے تھے وہ بہت بڑا جھوٹا تھا اور اس طرح جھوٹ باتیں اڑاتا تھا کہ دنیا کے تمام گوشوں میں دکھیل جاتی تھیں۔قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے گا۔بخاری کتاب الجنائز باب ما قيل في ادلاد المشركين) -۱۸ مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے اور جھوٹ کو سچائی کے رنگ میں بھی پیش نہیں کرنا چاہیئے۔کیونکہ چھوٹ ایک زہر ہے جس سے انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔اور