آداب حیات

by Other Authors

Page 100 of 287

آداب حیات — Page 100

سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیئے۔لیکن وہ تمام کام جو قومی فائدے کے ہوں وہ بھی ذکر الہلی اور دین کی خدمت کے تحت آتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم کے زمانہ میں مساجد میں ہی تعلیم ہوتی تھی۔قضا بھی وہیں ہوتی تھی اور لڑائیوں کے فیصلے بھی وہیں ہوتے تھے۔۹ مساجد میں بیٹھ کر ذکر الہی اور تلاوت قرآن پاک کی جانی چاہیئے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔إنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى وَقِراءة القرآن مسلم کتاب الطهارة باب وجوب ازالته النجاسات اذا حصلت في المسجد) کہ مساجد اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید پڑھنے کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں۔۱۰۔مسجد میں لہسن ، پیاز اور بدبو دار سینری کھا کر نہیں آنا چاہیئے کیونکہ فرشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جو شخص پیاز یا لہسن کھائے ہماری مسجد میں نہ آئے۔اور نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔(مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ باب البنى اكل الثوم والبصل ونحوها عند حضور المسجد مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جو شخص پیاز لہسن یا گند نا کھائے وہ مسجد میں نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے جس سے آدمیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔حضرت عمر بن خطاب نے خطبہ پڑھا اور کہا۔اے لوگو ! تم پیاز اور لہسن کھاتے ہو۔میں تو انہیں خبیث جانتا ہوں۔میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب مسجد میں کسی شخص سے ان دونوں کی بُو پاتے تو فرماتے کہ اس کو نکال دو۔وہ آپ کے فرمان سے بقیع کی طرف نکالا جاتا۔مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلواة باب النهي الكل الثوم والبصل ونحوها عند حضور المسجد