آداب حیات

by Other Authors

Page 99 of 287

آداب حیات — Page 99

۹۹ جب مسجد میں داخل ہوں تو دو نفل ادا کرنے چاہئیں۔ا مشكوة باب المساجد ومواضع الصلوة ) یہ نماز تحیة المسجد کہلاتی ہے۔حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے۔رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے۔تو نہ بیٹھے۔جب تک دو رکعت نماز نہ پڑھ لے۔بخاری کتاب الصلواۃ باب اذا دخل احد المسجد فلير كع ركعتين ) مسجد میں بلند آواز سے باتیں نہیں کرنا چاہیئے۔خاموشی سے وقت گزارنا چاہیئے۔اگر مجبوری سے کوئی دینی بات کرنی ہو تو آہستگی سے کرنی چاہیئے تا نمازیوں کی نماز میں حرج نہ ہو۔مساجد میں سنتا بھی نہیں چاہیئے۔حضرت السائب بن یزید کہتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی نے مجھے کنکر مارا۔جب میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب تھے۔فرمایا۔جاؤ ان دو شخصوں کو میرے پاس لاؤ ہمیں انہیں لایا۔پوچھا تم کہاں سے آئے ہو ؟ انہوں نے کہا۔ہم طائف کے لوگوں میں سے ہیں۔عمر فر نے کہا۔اگر تم شہر والوں سے ہوتے تو میں تم کو سنا دیا۔کیونکہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آواز بلند کرتے ہو۔د بخاری کتاب الصلوۃ باب رفع الصوت في المسجد) مساجد میں بیٹھ کر گپیں ہانکنا اور ادھر اُدھر کی فضول باتیں کرنا سخت ناپسندیدہ حرکت ہے۔کیونکہ مساجد خد اتعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں۔ضرورت محسوس ہونے پر مذہبی سیاسی، قضائی اور تمدنی امور پر بھی مساجد میں گفتگو ہو سکتی ہے (تفسیر کبیر جلد دوم صن کا نیا ایڈیشن) مساجد کی حرمت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔اور مساجد میں بیٹھنے کے بعد لغویات