اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 10 of 15

اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر — Page 10

20 19 تین سب سے بڑے گناہ دین کی بنیاد کو اوپر کی تعلیم کے ذریعہ پختہ کرنے کے بعد آنحضرت ایک ایسی ہدایت فرماتے ہیں جس کی تہہ میں گویا اصلاح نفس کے تمام فلسفہ کی کنجی ہے۔فرماتے ہیں:۔اَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلَاثَاً ـ قَالُوا بَلَى يَا رَسُوْلَ اللهِ - قَالَ الْإِشْرَافُ بِاللَّهِ وَ عَقُوقُ الوَالِدَيْنِ وَكَانَ مُتَّكِاً فَجَلَسَ فَقَالَ أَلَا وَ قَوْلَ لِلنُّورِ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ ( بخاری کتاب الادب باب عقوق الوالدین) مطلع یعنی کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں پر نہ کروں ؟ اور آپ نے یہ الفاظ تین دفعہ فرمائے۔صحابہ نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ آپ ضرور ہمیں مطلع فرمائیں۔آپ نے فرمایا تو پھر سنو کہ سب سے بڑا گناہ خدا کا شرک کرنا ہے۔اور اس کے بعد سب سے بڑا گناہ والدین کی خدمت سے غفلت برتنا ہے۔اور پھر (اور یہ کہتے ہوئے آپ تکیہ کا سہارا چھوڑ کر اُٹھ بیٹھے اور جوش کے ساتھ فرمایا کہ پھر ) جھوٹ بولنا سب سے بڑا گناہ ہے۔اور آپ نے الفاظ اتنی دفعہ دہرائے کہ راوی بیان کرتا ہے کہ ہم نے آپ کی تکلیف کا خیال کر کے دل میں کہا کہ کاش اب آپ خاموش ہو جائیں اور زیادہ تکلیف نہ فرمائیں۔“ ظاہری اور باطنی شرک یہ لطیف حدیث تین ایسی اصولی ہدایتوں پر مشتمل ہے جو بچوں کی تربیت میں عظیم الشان اثر رکھتی ہیں۔پہلی بات شرک ہے یعنی خدا کی ذات یا صفات میں اس کا کوئی شریک یا برابر ٹھہرانا۔خوش قسمتی سے اس زمانہ میں بھوں اور دیوتاؤں کے سامنے سر جھکانے والا شرک تو اسلامی توحید کے اثر کے ماتحت دنیا سے آہستہ آہستہ مٹ رہا ہے لیکن بدقسمتی سے شرک کی ایک مخفی قسم ایسی ہے جس میں بہت سے مسلمان بھی مبتلا ہیں۔مخفی شرک سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کی ایسی عزت کی جائے جو صرف خدا کی کرنی چاہیے یا کسی چیز کے ساتھ ایسی محبت رکھی جائے جو صرف خدا کے ساتھ رکھنی چاہیے۔یا کسی چیز پر ایسا بھروسہ کیا جائے جو صرف خدا پر ہونا چاہیے۔اسلام دین و دنیا کے مختلف کاموں کے لئے ظاہری تدبیروں کے اختیار کرنے سے ہر گز نہیں روکتا بلکہ ان کی ہدایت فرماتا ہے مگر ان پر بھروسہ کرنے اور انہیں ہی کامیابی کا آخری سہارا سمجھنے سے ضرور روکتا ہے اور بڑی سختی سے روکتا ہے۔پس احمدی ماؤں کا ہاں نیک اور دیندار ماؤں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کے دلوں سے اس مخفی شرک کو جو اس زمانہ میں لا تعداد رُوحوں کو تباہ کر رہا ہے بیخ و بن سے نکال کر پھینک دیں اور انہیں ہر حال میں مادی تدبیریں اختیار کرنے کے باوجود خدا کی طرف دیکھنے اور خدا پر بھروسہ کرنے کی تعلیم دیں۔خاکسار راقم الحروف نے ایسی نیک مائیں دیکھی ہیں ( اور کاش کہ سب مائیں ایسی ہی ہوں ) کہ وہ ایک طرف اپنے بیمار بچے کو دوا دے رہی ہوتی ہیں اور دوسری طرف اسے تھپک تھپک کر سمجھاتی جاتی ہیں کہ بچے یہ دوائی پی لو۔خدا کا حکم ہے اس لئے پی لو۔مگر شفا دینے والا صرف خدا ہے اس لئے دوائی بھی پیو اور خدا سے دُعا بھی مانگو کہ وہ تمہیں اچھا کر دے۔ان کے بچے کا امتحان سر پر ہوتا ہے وہ اسے محبت کے ساتھ سمجھاتی ہیں کہ برخوردار وقت ضائع نہ کرو اور کتابیں پڑھو مگر ساتھ ہی یہ الفاظ بھی کہتی جاتی ہیں