اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 11 of 15

اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر — Page 11

22 21 کہ دیکھو نا ! پاس تو تم نے صرف خدا کے فضل سے ہی ہونا ہے مگر یہ اسباب کا سلسلہ بھی تو خدا کا ہی پیدا کیا ہوا ہے اس لئے پڑھائی بھی کرو اور خدا کا فضل بھی مانگو۔یہ وہ نو نہال ہیں جن کے دلوں میں بچپن سے ہی توحید کی بنیاد قائم ہوتی ہے اور بعد کا کوئی طوفان اسے مٹا نہیں سکتا۔ماں باپ کی خدمت سے کوتاہی کرنا دوسری طرف ہدایت اس حدیث میں ماں باپ کی خدمت سے غفلت برتنے کے متعلق ہے جسے اسلام میں گویا شرک کے بعد دوسرے نمبر کا گناہ قرار دیا گیا ہے اور یاد رکھنا چاہیے کہ عقوق الوالدین سے ماں باپ کی نافرمانی ہی مراد نہیں بلکہ ان کا واجبی ادب نہ کرنا اور ان کی خدمت کی طرف سے غفلت برتنا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ اس جگہ ماں باپ کا لفظ بھی دراصل مثال کے طور پر رکھا گیا ہے ورنہ جیسا کہ دوسری حدیثوں میں صراحت کی گئی ہے مراد یہ ہے کہ علی قدر مراتب سب بزرگوں کا ادب اور احترام ملحوظ رکھنا چاہیے جن میں یقیناً والدین کو خاص مقام حاصل ہے۔پس نیک ماؤں کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولا د کو بچپن سے ہی نہ صرف ماں باپ کا بلکہ سارے بزرگوں کا ادب کرنا سکھائیں۔دادا دادی ، چچا چی ، پھوپھا پھوپھی ، خالہ خالو ، نانا نانی ،ماموں ممانی ، بڑا بھائی بڑی بہن ، ہمسایہ کے بزرگ ، قوم کے بزرگ، ملک کے بزرگ ، ہر ایک کا ادب ملحوظ رکھنا اور اُن سب سے عزت کے ساتھ پیش آنا اسلامی اخلاق کی جان ہے اور احمدی ماؤں کا فرض ہے کہ اپنے بچوں میں اس خُلق کو راسخ کرنے کی کوشش کریں۔یہ مقولہ کتنی گہری صداقت پر مبنی ہے کہ الطريقة كلّها ادب یعنی دین کا رستہ سب کا سب ادب کے میدان میں سے ہو کر گزرتا ہے۔اور حق یہ ہے کہ ادب اصلاح نفس کا بھی بھاری ذریعہ ہے کیونکہ جو بچے بزرگوں کا ادب کرتے ہیں وہی ان کی نصیحتوں کو سنتے اور اُن سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔پس خوش قسمت ہیں وہ مائیں جو اپنے بچوں کے اندرادب کا سلیقہ قائم کرنے میں کامیاب ہوں کیونکہ اس قدم سے ہی ان کے تربیتی سفر کا تیسرا حصہ کٹ جاتا ہے۔جھوٹ بولنا تیسری بات اس حدیث میں جھوٹ بولنا بیان کی گئی ہے جسے اسلام نے گویا تیسرے نمبر کا گناہ شمار کیا ہے۔ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹ سے اس قدر نفرت تھی اور آپ کے دل میں مسلمانوں کے اندر صداقت اور راست گفتاری کی عادت پیدا کرنے کا اتنا جوش تھا جیسا کہ اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے آپ جھوٹ کے خلاف نصیحت فرماتے ہوئے جوش کے ساتھ اُٹھ کر بیٹھ گئے اور بار بار یہ الفاظ دہرائے کہ :- اَلا وَ قَوْلَ النُّورِ اَلاَوَ قَوْلَ النُّورِ یعنی کان کھول کر سُن لو۔ہاں پھر کان کھول کر سُن لو کہ اسلام میں شرک اور عقوق الوالدین سے اُتر کر سب سے بڑا گناہ جھوٹ بولنا ہے۔“ 66 دراصل جھوٹ صرف اپنی ذات میں ہی ایک نہایت ذلیل قسم کا گناہ نہیں ہے بلکہ دوسرے گناہوں کے پیدا کرنے اور ان پر پردہ ڈالنے کی ایک گندی مشینری بھی ہے۔جو لوگ جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے ہیں وہ فورا! جھوٹ بول کر اپنے گناہوں کو چھپا جاتے ہیں اور اس طرح انہیں آئندہ گناہ کرنے کے لئے مزید دلیری پیدا ہوتی ہے اور گناہ کا ایک ایسا نا پاک چکر قائم ہو جاتا ہے کہ اس میں پھنس کر کوئی شخص باہر نہیں نکل سکتا۔اسی لئے ایک دوسری