اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 9 of 15

اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر — Page 9

18 17 نماز اور خدا کے رستہ میں خرچ کرنا پس ایمان قائم کرنے کے بعد ماؤں کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں میں یہ دو بنیادی نیکیاں راسخ کرنے کی کوشش کریں یعنی ایک تو ان کے دل میں بچپن سے ہی نماز کا شوق پیدا کریں اور اس کا عادی بنائیں اور دوسرے بچوں میں یہ عادت پیدا کریں کہ وہ جماعتی کاموں میں حصہ لیں اور کچھ نہ کچھ رقم خواہ وہ کتنی ہی قلیل ہو اپنے ہاتھ سے چندہ کے طور پر دیا کریں۔نماز پڑھتے ہوئے ان کے دل میں یہ احساس ہو (اور اس احساس کا پیدا کرانا ماؤں کا کام ہے ) کہ ہم خدا کے سامنے کھڑے ہو رہے ہیں۔وہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہم اُسے دیکھ رہے ہیں۔اور چندہ دیتے ہوئے وہ یہ محسوس کریں کہ ہم اپنی قوم اور جماعت کا بوجھ بٹا رہے ہیں۔اگر یہ دو ظاہری عمل اور یہ دو باطنی جذ بے احمدی ماؤں کے ذریعہ احمدی بچوں میں قائم ہو جائیں تو خدا کے فضل سے ہماری جماعت کا مستقبل محفوظ ہے۔اسی لئے قرآن مجید نے اس حکم کو اپنے بالکل شروع میں بیان کیا ہے تا اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ یہ دو عمل اسلام کی جان ہیں جن سے مسلمان بچوں کی تربیت کا آغاز ہونا چاہیے۔ہر احمدی بچہ نماز کا پابند اور اس کا شائق ہو۔اور ہر احمدی بچہ اپنے آپ کو ایک خدائی جماعت کا فرد سمجھتے ہوئے اس کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کی تڑپ رکھے۔یہ وہ دو زبر دست کھونٹے ہیں جن کے ساتھ بندھ کر ہر بچہ تمام قسم کے خطرات سے محفوظ ہو جاتا ہے اس کی ایک تار خدا سے ملتی ہے جو ایک نہ ٹوٹنے والا دائمی سہارا ہے۔اور اس کی دوسری تار جماعت سے ملتی ہے جو اس کے لئے ایک آہنی قلعہ سے کم نہیں۔پس اے احمدی ماؤ! اے اسلام کی بیٹیو! آج سے اس بات کا عہد کرو کہ تم نے اپنے بچوں میں یہ دو نیکیاں بہر حال پیدا کرنی ہیں تم نے انہیں نماز اور دُعاؤں کا پابند بنانا ہے اور ان میں ایک خدائی جماعت کا فرد ہونے اور اس کے لئے وقت اور مال کی قربانی کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔دیکھو ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضمانت دی تھی مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اس کی قدر نہیں کی۔آپ نے فرمایا تھا کہ جو مسلمان مجھے اپنے دو عضووں کی ذمہ داری دے وہ اک زباں ہے عضو نہانی ہے دوسرا تو میں ایسے مسلمان کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔مگر یہاں تمہارے آقا کا بھی آقا دُنیا کا واحد خالق و مالک خدا جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیاں ہیں ایک ابدی ضمانت دیتا ہے اسے تو قبول کرو۔فرماتا ہے:۔الَّذِينَ۔۔۔۔۔وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنهُم يُنفِقُونَ۔۔۔۔۔۔أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ) (البقره:54) یعنی جو لوگ نماز کو قائم کرتے اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔۔۔۔وہی ہماری طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور یقیناً وہی بالآخر بامراد ہوں گے۔“ اے احمدی ماؤ! یہ وہ تعویذ ہے جو تمہارے بچوں کی دائمی حفاظت کے لئے زمین و آسمان کا خدا پیش کرتا ہے۔اسے شوق کے ہاتھوں سے قبول کرو کہ اس سے زیادہ پختہ اور اس سے زیادہ ستا سودا تمہیں کہیں نہیں ملے گا۔یہ تعویذ کیا ہے؟ نماز اور خدا کے رستہ میں خرچ کرنا۔