میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 52 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 52

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) نے بتایا کہ ایک دن ایک بچہ مجھ سے پو چھنے لگا کہ ای کلی میں یہ کپڑے والے قلفی والے اور دوسری چیزیں بیچنے والے کیوں آتے ہیں جب کہ ان سے کوئی لیتا ہی نہیں ہے اور یونہی چکر لگا کر چلے جاتے ہیں۔میں خوش بھی ہوئی افسردہ بھی کہ دیکھو اس بچے نے یہ خیال کیا کہ ہم ان سے کوئی چیز نہیں خریدتے تو کوئی بھی نہیں خریدتا ہوگا۔اللہ کا شکر کیا کہ اگر ان حالات میں دوسرے بچوں کی طرح یہ مجھ سے بار بار پیسے مانگتے ضد کرتے تو میرے لئے کس قدر مشکل ہوتی۔میں نے بھی یہ واقعہ سن کر بہت شکر کیا اور اپنی اولاد میں سیر چشمی صبر اور قناعت میں اضافے کی دعا کی۔“ امی جان سے خط لکھنے کی فرمائش جیسا کہ ذکر ہو چکا امی جان پڑھنا تو جانتی تھیں لکھنے کی مشق نہیں تھی۔ابا جان چاہتے تھے کہ امی خود لکھیں بچوں سے لکھوائے ہوئے خط اور بچوں کو دیے ہوئے جواب سے تشنگی رہتی۔اکثر خطوط میں اس کا ذکر ہے۔بھائی جان باسط کے نام خط میں لکھا جو قادیان جا کر ابا جان سے مل کر آئے تھے: خدا کرے آپ کی والدہ مکرمہ مقدسہ آپ سے مل کر اتنا ہی خوش ہوں جس قدر میں نے پتھر دل پر رکھ کر آپ کو جُدا کیا۔یہ امر قابل افسوس ہے کہ میں اس دکھ کو الفاظ کی صورت میں آمنہ پر ظاہر نہیں کر سکتا اور اسی طرح وہ اپنا مافی الضمیر ادا نہیں کر سکتی مگر بیٹے اس کی اطاعت اور خدمت گزاری اور دور اندیشی نے پیتل کو سونا بنا رکھا ہے اور جس کے 52