میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 51
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) پیار کا شکریہ ادا کریں۔امیر صاحب کے کمرہ میں الفضل پڑھا وہیں دونوں نے دعا کی وہاں سے سوا بارہ بجے مسجد مبارک جا کر دو نفل ادا کئے خوب رقت سے دعا کی پھر بیت الدعا میں جا کر دعا کی۔پھر تینوں مساجد میں دعا کے اعلان کا بندوبست کرنے میں لگ گیا۔نماز ظہر مسجد اقصیٰ میں پڑھ کر خوشی کے آنسو بہائے نماز کے بعد سب سے پہلے مسجد مبارک میں نفل ادا کئے سب درویشوں نے گلے مل کر دعائیں اور مبارکباد دی۔مسجد مبارک کی دعائیں اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔“ سات سال بعد پہلی بارر بوہ آمد کا احوال ابا جان کی ڈائری سے 22 فروری 1954ء میں صبح کی اذان کے ساتھ پہلی بارر بوہ گیا اُس وقت میری اہلیہ اور بچے دارالخواتین میں رہتے تھے میرا ایک بچہ جو جدائی کے تین ماہ بعد 1947ء میں لاہور میں میری غیر موجودگی میں پیدا ہوا تھا میرے پاس لایا گیا اور اُس سے پوچھا گیا یہ کون ہیں؟ بچے نے کہا پھوپھا جی تب اس کو میری وہ تصویر دکھائی گئی جسے دکھا کر ابا جان کے پاس جانے کی ضد میں بہلایا کرتے تھے تب میرے ذہین بچے نے فورازور دار آواز میں ابا جی کہہ کر میرے گلے میں باہیں ڈال دیں پھر باپ نے بیٹے کو کیسے چمٹایا اور پیار کیا ہو گا۔چشم تصور سے دیکھ لیں محسوسات کا اندازہ کر لیں۔میرے بچوں میں صبر وشکر، سیر چشمی اور قناعت شامل ہونے کی وجہ اُن کی والدہ محترمہ کی تربیت تھی۔درویشانہ فقیرانہ کس مپرسی میں عزت نفس کا احساس زندہ رکھا۔واقعہ تو ایک بچے کی معصومیت کا ہے مگر میں اس کو کئی زاویوں سے دیکھتا ہوں۔میری اہلیہ 51