میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 53
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر لئے ہم اس کے بے حد ممنون اور زیرا احسان ہیں۔“ ” میری رفیقہ ء حیات! میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جلد لکھنا پڑھنا سکھا دے آنکھیں روروکر خراب نہ کریں جس اُمید پر آپ جیتی ہیں اگر وہی فوت کر لی تو کیا فائدہ؟ اگر جان پریشانیوں سے ہلاک ہوگئی تو مجھے کیسے دیکھو گی ؟ کمال صبر اور صلوٰۃ سے دن گزارو۔حضرت یعقوب کو یوسف کا غم تھا انہوں نے صبر سے کام لیا تو سب کو پالیا دیکھو غلط سلط ہی سہی خط خود لکھا کرو اور کسی کو دکھائے بغیر ڈال دیا کرو۔اگر آپ کو ہم سے لگاؤ ہوگا تو جلد لکھنا آجائے گا اسی لگاؤ کے نتیجہ میں فرہاد نے پہاڑ سوہنی نے دریا اور کسی نے نتھل چیر کر رکھ دیا آپ لکھنا سیکھ لیں“ ابا جان کا گا ہے ما ہے ربوہ آنا پہلی دفعہ سات سال بعد 1954ء میں ربوہ آنا ممکن ہوا۔پھر کبھی کبھی ویزا اور چھٹی ملنے پر ربوہ آتے مگر 1962ء میں ایک نادانستہ غلطی پر پکڑ ہو گئی۔حکومت نے پاسپورٹ واپس لے لیا۔مصلحتنا زیرزمین جانے کی کیفیت ہوگئی۔امی جان کو علم ہوا تو فکرمند ہوئیں اور قادیان جانے کے ارادہ سے میاں صاحب کے پاس اجازت کے لیے گئیں۔میاں صاحب نے فرمایا میں نے خط لکھا ہوا ہے حالات سے آگا ہی ہو تو پھر جانا چند دن کے بعد میاں صاحب نے فرمایا اب تو آپ کو جانا ہی چاہیے۔نیز فرما یا اُن سے کہہ دیں کہ میں میاں عبد الرحیم کو جانتا ہوں۔وہ بہت مخلص ہے۔سہو منہ سے غلط نعرہ نکلا ہے۔یہ بھی 53