میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 60 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 60

شادی۔آپس کا حسنِ سلوک۔جدائی ،صبر ابا جان کی صحت کمزور ہورہی تھی امی جان چاہتی تھیں کہ پانچویں بیٹی کی شادی کی ذمہ داری ادا ہو جائے تو وہ قادیان جا کر کچھ عرصہ رہ سکیں۔سب کی شادیاں ہو چکی تھیں۔گھر میں امی جان اور چھوٹی بہن ہی رہتی تھیں آپ نے نماز میں دعا مانگی کہ اللہ پاک اپنے فضل سے کوئی مناسب رشتہ گھر بھجوا دے۔ابھی نماز میں ہی تھیں کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔بہن نے دروازہ کھول کر مہمانوں کو بٹھایا۔یہ مہمان خدا نے بھیجے تھے جو چھوٹی بیٹی کے رشتہ کے لیے آئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے مکرمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ سے رشتے کے لیے پوچھا تو انہوں نے آپ کے گھر بھیجا ہے کہا ہے کہ درویش کی بیوی نے بچیوں کو گلے سے لگا کر ان کی کمائی کا لالچ نہیں کیا اور صحیح عمر میں بچیوں کے رشتے کر دیے ہیں۔آپ قسمت آزمالیں۔امی جان نے اسے اپنی دعاؤں کا جواب سمجھا اور مہمان خاتون کے اصرار پر اگلے روز ان کے ہاں گئیں۔واپس آئیں تو دروازہ بھائی جان باسط نے کھولا جو ان دنوں ملتان میں مربی تھے اور اچانک آئے تھے۔بھائی جان کو دیکھ کر غیر معمولی خوشی کا اظہار کیا۔کہنے لگیں بیٹی کا رشتہ دیکھ کر آرہی تھی سوچ رہی تھی کہ اس کے ابا جان تو قادیان ہیں میں گھر میں اکیلی ہوں اس سلسلے میں کس سے مشورہ کروں گی اور پھر میں نے آتے آتے دعا کی کہ خدا کرے میرے گھر پہنچنے پر دروازہ میرا بیٹا کھولے اور خدا کی شان ہے کہ دروازہ کسی اور نے نہیں بلکہ تم نے ہی کھولا۔الحمد للہ۔مذکورہ حالات میں پانچ بیٹیوں کی شادی ایک بہت ہی کٹھن اور مشکل مرحلہ تھا۔خدا 60