میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 61 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 61

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) تعالیٰ کے فضل سے دعاؤں کی برکت سے بڑے وقار اور عمدگی سے اپنے اپنے وقت میں امی جان نے بیٹیوں کو دین اور دنیا کی اعلیٰ تعلیم کے ساتھ گھر داری کے سارے سلیقے سکھائے سلائی کڑہائی بنائی جیسے ہنر سکھائے۔فارغ بیٹھنا پسند نہیں کرتی تھیں نہ ہی فارغ بیٹھنے دیتیں۔ہم نے امی کو گرمی کی لمبی دو پہروں میں چرخہ کاتے دیکھا۔گھر کے سارے کام ہم بہنوں میں بانٹے ہوئے تھے۔ہماری پڑھائی کے خیال سے اکثر کام خود ہی کرلیتیں۔سال بھر کی اجناس لینا صاف کر کے سنبھال کے رکھنا۔سب بہنوں نے اپنے اپنے وقت پر سکول کالج میں پڑھا یا۔مگر تنخواہ کے لیے شادی میں دیر نہیں کی۔پردے کی پابندی کا یہ عالم تھا کہ خود بھی جیٹھ اور دیوروں سے پردہ کیا اور ہمیں بھی کزنز اور بہنو ئیوں سے پردہ کرایا۔اور یہ کئی لحاظ سے بہت اچھا کیا۔درویش کی امانت کو کما حقہ ذمہ داری سے سنبھالا اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمیں پردے کے لیے کہنا نہیں پڑا بلکہ امی کا نمونہ دیکھ کر عمل کیا۔قرآن پاک کے اوامر ونواہی پر عمل کرتیں اور کرا تیں۔اُٹھتے بیٹھتے چھوٹی چھوٹی باتیں سکھا دیتیں کبھی کھانے کی چیز یا کاغذ زمین پر پڑا ہو تو امی فوراً اُٹھانے کو کہتیں۔سنی سنائی بات آگے بڑھانے سے منع کرتیں۔چیزیں سنبھال کے استعمال کرنا ، ضائع ہونے سے بچانا اور نعمتوں پر شکر کرنا ہماری فطرت میں شامل کر دیا۔آپ کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔خاص طور پر کسی کو ضرورت مند دیکھ کر ہر ممکن مدد کر نے کو فرض منصبی سمجھ لیتیں تحمل سے جھگڑے نبٹانے میں بہت ماہر تھیں۔ہم نے کسی سے انہیں تلخ کلامی یا بے رخی برتتے نہیں دیکھا۔بڑی خندہ پیشانی سے وقت گزارا۔61