میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 59 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 59

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) ابھی نماز سے فارغ نہیں ہوئی تھیں کہ ایک پڑوسن کی آواز آئی یہ گھی چھوڑے جارہی ہوں نماز کے بعد اسے سنبھال لیں سلام پھیر کر دیکھا تو گھی کا بھرا ہوا ایک کٹورا تھا اس سے پنجیری تیار کر کے لاہور بھجوا دی۔بعد میں اس مہربان نے بتایا کہ اسے دیسی گھی کا تحفہ ملا تھا خدا نے اس کے دل میں ڈالا کہ اس میں سے آدھا اپنی درویش بہن کو دے آؤں۔سبحان اللہ۔ایک واقعہ حیدر آباد کا ہے۔ایک دفعہ چھوٹے بیٹے کے پاس حیدر آباد گئیں۔شام ہوئی تو خیال آیا کہ ان کے پاس کوئی زائد چار پائی نہیں ہے سوتے وقت مشکل پیش آئے گی اور بچے میرے آرام کی خاطر خود تکلیف اٹھا ئیں گے کیا ہی اچھا ہو کہ اللہ تعالیٰ غیب سے چار پائی مہیا فرمادے۔ابھی یہ سوچ ہی رہی تھیں کہ کسی نے باہر سے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ مجھے پتہ چلا تھا کہ آپ کے ہاں مہمان آئے ہیں آپ کو چار پائی کی ضرورت ہو گی یہ چار پائی لے لیں۔اس غیبی تائید کا ذریعہ بننے والے فرشتہ سیرت بزرگ مکرم مرزا محمد ادریس صاحب سابق مربی انڈونیشیا کے والد محترم مرز امحمد اسماعیل صاحب تھے۔امی کی کوئی لگی بندھی آمد نہیں تھی۔اللہ پاک غیب سے سامان کرتا قناعت، سیر چشمی اور کفایت سے گزارا کرتیں۔ایسے بھی ہوا کہ شدید ضرورت پڑنے پر اللہ پاک کی طرف رخ کرنے کے لیے قرآن مجید پڑھنے بیٹے گئیں۔کھولا تو اس میں سے افضل الہی کبھی کے رکھے ہوئے روپے ملے۔بچوں کے رشتوں میں اللہ پاک کی مدد کی ایک مثال لکھتی ہوں: 59