میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 11
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) " آپ مجھے مسجد اقصیٰ کے کنوئیں کا پانی پلا سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام استعمال کیا کرتے تھے؟“ عقیدت و محبت کے عالم میں یہ پانی آب شفا بن گیا اور اللہ تعالیٰ نے آمنہ کونئی زندگی عطا فرمائی۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے ہم میاں بیوی کو آپس کی گہری محبت سے نوازا کچھ مدت کے بعد اُس کے بھائی میاں احمد دین صاحب اُسے گاؤں لے جانے کے لئے آئے تو بھیجنا مشکل ہورہا تھا۔اُس کو گھوڑے پر سوار کر کے روانہ تو کر دیا مگر واپسی پر گھر کا فاصلہ اس قدر دراز اور بوجھل لگا کہ طبیعت قابو میں نہ رہی۔حضرت نواب صاحب کے کنوئیں پر بیٹھ کر دل ہلکا کرنے کی کوشش کی پھر آنکھیں صاف کیں اور افسردگی سے گھر آکر کام میں مصروف ہو کر غم غلط کیا۔امی جان نے اپنے سسرال میں اپنی اطاعت، فرمانبرداری، محبت اور خوش مزاجی سے سب کے دل جیت لیے۔گھر کے کاموں میں محنت سے ہاتھ بٹا تیں۔بڑوں کے احترام اور چھوٹوں سے پیار نے ان کو ہر دلعزیز بنا دیا۔دادا جان کی دکان کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹاتیں اور دعائیں لیتیں۔اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے نوازا۔پہلی بیٹی امتة اللطیف کی پیدائش کے بعد سے امی جان ابا جان کو لطیف کے ابا کہنے لگیں پھر ہم نے ساری عمر ان کے منہ سے ابا جان کے لیے لطیف کے ابا ہی سنا۔فضل منزل میں ماحول خوشگوار رہتا سب افراد خانہ ایک دوسرے سے بہت تعاون کرتے۔گھر میں کبھی 11