میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 10 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 10

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) چند دن ٹھہر کر آپ واپس تشریف لے گئے آمنہ کی حالت دن بدن خراب ہوتی گئی۔جس طرح میری والدہ صاحبہ کو وہ ایک نظر میں بھا گئی تھی میرے بھی دل میں گھر کر گئی تھی۔ایک سچا عاشق جس طرح اپنے معشوق کی علالت میں تیمار داری کر سکتا ہے میں نے اس سے بڑھ کر کی۔کوئی کسر نہ چھوڑی۔آخر سب نا اُمید ہو کر تھک ہار کر بیٹھ گئے۔تیمارداری، علاج معالجہ دیکھ پرداخت پر توجہ کم ہو گئی۔مگر ایک میں تھا کہ راتوں کو جاگتا اور دن بھر پٹی سے لگا رہتا۔بس نہ چلتا کہ خود کو قربان کر کے اُس کو بچالوں۔ایک رات ایسی آئی کہ والد صاحب آئے نبض دیکھی اور مایوس ہو کر لیٹ گئے۔سب گھر والےسو گئے۔میں جاگ رہا تھا اور حسب معمول اللہ تعالیٰ سے اُس کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔اُس کی بیماری نے مجھے دعا مانگنے کا سلیقہ بھی سکھا دیا تھا۔بیماری کو ایک ماہ چودہ دن ہو گئے تھے۔اتنے لمبے عرصے کے بعد اُس نے آنکھیں کھولیں اور گردن گھما کر میری طرف دیکھا اور کہا آپ ابھی تک بیٹھے ہیں سو کیوں نہیں جاتے ؟ میں نے بے ساختہ کہا تم کو اس حالت میں چھوڑ کر نیند کیسے آسکتی ہے؟ اس نے کہا: ”اچھا۔جزاک اللہ۔مجھے بھوک لگی ہے۔“ پاس ہی یخنی پڑی تھی چند تی دیے اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہوئے جا کر والد صاحب کو بتایا وہ بھی بے حد خوش ہوئے اور سجدہ شکر ادا کیا۔اُس وقت میری بیوی نے مجھ سے پہلی فرمائش کی جس سے اُس کی قادیان سے محبت پھوٹی پڑتی ہے بے حد نحیف آواز میں کہا: 10