آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 57 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 57

111 110 شہادت میں گیا۔شہادت ختم ہو کر ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں تو ایس ڈی او پر ایک آدمی کو لاد کر لے آئے جس پر لحاف پڑا ہوا تھا۔تھانہ کے صحن میں صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ وہ کونے میں جو لمبی ڈاڑھی والا کالے رنگ کا چار پائی کو رکھ کر وہ لوگ پکار پکار کر چیخنے لگے ” او دیوان جی! او دیوان جی! خون بڑھا مولوی بیٹھا ہوا ہے اُسے آپ نے دیکھا؟ میں نے کہا: ”جی ہاں ہو گیا قتل ہو گیا۔ہمارے بھائی کو مار دیا۔نا تجربہ کار منشی جی نے کہا۔اندر آ دیکھا۔کہنے لگے کہ یہ اس علاقہ کا بڑا بھاری مولوی ہے اور اس کا نام کرم جاؤ اور یہاں بیٹھ کر رپٹ لکھواؤ“۔دین ہے۔آج یہ اس جرم میں میری کچہری میں حاضر کیا گیا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر چند روپوں کے لالچ میں ایک عورت کا نکاح پر نکاح پڑھا دیا“۔وہ اندر چلے گئے اور یہ لکھوایا کہ ”رات کو ہم سو رہے تھے کہ اندھیرے میں چار پانچ آدمی جن کو ہم نے آوازوں سے پہچانا یک دم ہمارے بھائی رام میں نے کہا۔”ہاں یہ مولویوں کی قوم ایسی ہی ہے۔اور اس شخص کو تو میں آپ سنگھ پر حملہ آور ہوئے اور اُسے مار مار کر قتل کر دیا۔مارنے والے فلاں فلاں سے بھی زیادہ جانتا ہوں۔(علماء هم شَرٌّ مَنْ تَحتَ ادِيم السماء) (57) مُردہ زندہ ہو گیا مقدمہ بازی اس ملک میں اس حد تک جھوٹ اور فریب کی مرہونِ " اشخاص فلاں گاؤں کے تھے۔پھر وہ کچھ رونے دھونے لگ گئے۔منشی جی نے یہ سب رپورٹ لکھ لی اور ایک کاغذ پر مجھے یہ لکھا کہ میں ایک مقتول کو برائے ملاحظہ پوسٹ مارٹم بھیج رہا ہوں۔مہربانی فرما کر نتیجہ سے اطلاع دیں“۔یہ لکھ کر کاغذات ایک سپاہی کو دیے کہ اسٹنٹ سرجن صاحب کو منت ہو چکی ہے کہ جب آپ سنیں کہ ”فلاں جگہ قتل ہو گیا ہے تو فوراً یقین دے آ۔وہ شخص کاغذ لے کر میرے پاس شفا خانہ میں جو تھانہ کے قریب ہی تھا نہ کر لیں۔تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوگا کہ موت واقع نہیں ہوئی بلکہ صرف پہنچا۔میں حیران تھا کہ پوسٹ مارٹم کے لئے تو خاص فارم ہوا کرتے ہیں، یہ سیر پھٹا ہے اور ضرب شدید ہے تیسرے دن معلوم ہوگا کہ نہیں ضرب خفیف سادہ کاغذ پر مختصر سی تحریر کیوں آئی ہے؟ سپاہی نے کہا کہ : ”سب افسر کار سرکار تھی۔اور آخر میں بالعموم سچی بات یہ نکلے گی کہ صرف تو تو میں میں ہوئی تھی پر باہر ہیں ایک ناواقف منشی جی تھانہ کا کام بھگتا رہے ہیں۔آپ نعش کا ملاحظہ کر لیں گے تو میں اصلی فارم بھر واکر لا دوں گا۔دیوان صاحب بھی دو پہر تک اور بس۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک تھانہ کا سب انسپکٹر کسی تفتیش پر مع کئی آجائیں گے۔وہ با قاعدہ کاغذات بھر کے بھیج دیں گئے۔سپاہیوں کے باہر چلا گیا۔اُس کے بعد حوالدار بھی کسی عدالت کی شہادت کے لئے سفر پر روانہ ہو گیا۔پھر ہیڈ منشی بھی کسی فوری ضرورت کے لئے تھانہ خالی چھوڑ گیا۔اب صرف ایک نا تجربہ کار کانسٹیبل جو کچھ تھوڑا سا پڑھا لکھا تھا تھا نہ کا دو " اب وہاں کی سنیئے سپاہی تو منشی جی نے میری طرف بھیج دیا تھا۔اس کے بعد اُن لوگوں سے کہنے لگے کہ ” جاتے کیوں نہیں؟ وہ کہنے لگے کہ جائیں کہاں؟ منشی جی کہنے لگے۔بیوقوفو! ابھی میں نے ڈاکٹر صاحب کو انچارج رہ گیا اُن کو ہم یہاں منشی جی کے نام سے پکاریں گے۔منشی جی صبح ہی کاغذات برائے ملاحظہ نعش بھیجے ہیں تم چار پائی سرکاری لاش خانہ میں لے صبح آکر تھانہ میں رجسٹر لے کر بیٹھے ہی تھے کہ کسی گاؤں کے چند جاٹ چار پائی جاؤ۔وہاں یہ نعش چیری جائے گی اور نتیجہ آنے پر مقدمہ کی صورت بن سکے