آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 56 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 56

109 108 ہی ہو گا۔میں نے پوچھا کس لئے؟ کہنے لگا ”چار پانچ سیر کو ملے، صابن طرف آتا ہوا دکھائی دیا۔میں نے صاحب سے کہا کہ ” آج بھرے ہسپتال کی ٹکیا اور کچھ دیگر اشیائے متفرقہ تو شفا خانہ کی طرف سے لے جائے گا۔پھر میں لوگوں کے سامنے میری اور آپ کی بڑی بے عزتی ہوئی ہے۔کہنے لگے کچھ اپنا ذاتی انعام سارے عملہ کی طرف سے اور کچھ اور چیزیں یعنی مرغی انڈا کیونکر؟ میں نے کہا: ”آپ کا نوکر وہاں جا کر ہسپتال کے کوئلے، صابن اور وغیرہ آپ کی طرف سے بطور ڈالی کئے۔میں نے کہا: ”یہ نیا دستور ہے یا فلاں فلاں چیز آپ کے نام پر مانگتا تھا۔مجھے بڑی غیرت آئی۔کیونکہ آپ کی ہمیشہ سے یوں ہی ہوتا چلا آیا ہے؟ کہنے لگا ”میں تو ہمیشہ سے یہی دیکھتا رہا اور میری دونوں کی اس بات میں سبکی تھی۔غرض میں نے اسے تو ٹال دیا۔مگر ہوں“۔میں نے کہا ” پھر آج یہ جبر یہ کاروائی نہیں ہو گی۔ہیڈ کمپاؤڈر کہنے آپ اسے سمجھا دیں کہ چار آنہ کے کوئلوں اور دو آنہ کے صابن کے لئے وہ پبلک میں محکمہ کو ذلیل نہ کیا کرئے“۔لگا۔" " 2766 کیا۔سکونڈرل۔ڈیم سوائن ، حرامزادہ سور کا بچہ اور گالیوں کے آپ کیوں خواہ مخواہ دو چار روپوں کے لئے جھگڑا مول لیتے ہیں۔یہ سُن کر ادھر تو صاحب کا منہ غصہ کے مارے سرخ ہو گیا اور اُدھر بلا سے لے جانے دیں۔خانساماں کہیں صاحب کو کہہ کر کوئی تکلیف نہ خانساماں عین وقت پر میری شکایت صاحب سے کرنے کے لئے کمرہ کے پہنچائے۔میں نے کہا ”نہیں یہ باتیں دقیانوسی ہیں اب بند ہونی چاہیں۔اندر گھسا۔اُس کے اندر گھنے کی دیر تھی کہ صاحب نے اُس پر گر جنا شروع اتنے میں خانساماں بھی بلائے بے درماں کے طرح آن پہنچا اور کہنے لگا ”ڈاکٹر صاحب! صاحب بہادر کو ناشتہ کرنا ہے۔پھر ٹفن بھی وہیں ریل پر ہی کھائیں ساتھ ہی ٹھڈے پر ٹھڈا برسنا شروع ہو گیا۔پھر کہنے لگے کہ میں اسے ہمیشہ گے۔فلاں فلاں چیزوں کا بندوبست فرما دیجئے۔میں نے کہا ”صاحب تنخواہ ان ذلیل حرکتوں سے منع کرتا رہتا ہوں مگر یہ باز نہیں آتا اگر اب ایسی کوئی پاتے ہیں اور ہم سے زیادہ امیر ہیں تم ان کے لئے بازار سے یہ سب چیزیں جا بات ہو گی تو اس بدمعاش کو موقوف کر دوں گا۔آپ اس کو ایک پائی کی چیز کر خرید لو یا پیسے دو تو میں منگوا دوں۔کہنے لگا ”ہمیشہ تو ڈاکٹر صاحبان یہیں سے ہی بندوبست کر دیا کرتے تھے۔میں نے کہا: ”وہ ڈاکٹر صاحبان تو یہاں خانساماں منہ لٹکائے کمرہ سے باہر چلا گیا۔میں وہاں تین سال رہا۔سے تبدیل ہو کر چلے گئے۔اب تو میں یہاں ہوں اور میرے نزدیک تمہارا مگر پھر اس شخص کی شکل میں نے نہیں دیکھی۔اصل میں سارا قصور خانساماں کا کوئی حق کسی چیز کے مانگنے کا درست نہیں ہے۔آخر وہ بھی گھاگ تھا تیز بھی نہ تھا بلکہ صاحب کی لا پرواہی اور لاعلمی بھی قابل گرفت تھی۔مگر پھر میرے ہونے لگا۔میں نے دُھتکار کر اُسے نکال دیا۔اور بائیسکل پر سیدھا ریل کے سامنے کبھی اس قسم کا مطالبہ نہیں آیا۔گر بہ کشتن روز اوّل 66 ویٹنگ روم میں پہنچا پہلے تو سلام سلام ہوتا رہا پھر صاحب پوچھتے رہے کہ " تم کہاں ملازمت کے دوران میں پھرتے رہے ہو؟ کتنے برس کی ملازمت ہے؟ طن کہاں ہے؟ وغیرہ وغیرہ اتنے میں ہی وہی خانساماں دور سے پلیٹ فارم کی نہ دیں۔(56) مولوی کے کرتوت ایک روز میں چکوال کے ایس ڈی اوصاحب کے ہاں کسی مقدمہ کی