آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 33
63 62 چھکنی بُوٹی منگائی اور اسے نہایت باریک پسوا کر ایک پڑیا بنا کر رکھ لی۔سے لوگوں نے بھی تعاقب نہ چھوڑا۔آخر دُور جا کر جب کچھ نہ ہو سکا تو ایک تیسرے پہر جب وہ آیا تو وہ پڑیا اُسے دے کے پھر دوبارہ اچھی طرح اُس گنے کے کھیت میں گھس کر اندر چھپ بیٹھے۔اتنے میں لوگ بھی کھیت کے پاس کے استعمال کی ترکیب سمجھا دی۔رات کو وہ شخص وعدہ کی جگہ پر پہنچا اور دیوار پہنچ چکے تھے۔کہ اندر سے آچھیں" کی آوازیں آنی شروع ہوئیں۔گاؤں پھاند کر احاطہ کے اندر داخل ہوا ہی تھا کہ اُس کی محبوبہ دبے پاؤں سامنے سے والوں نے پہلے تو اُس کھیت کے گرد حلقہ ڈال کر ناکہ بندی کی پھر باقاعدہ آتی ہوئی نظر آئی۔جھٹ لاحول پڑھ اُس نے وہ پڑیا کھولی۔ایک بڑا سا پٹکا پارٹیاں بنا کر اندر داخل ہو گئے۔اتنے میں ایک لالٹین بھی پیچھے سے آگئی۔مگر بھرا اور دونوں نتھنوں میں دھر دبایا۔بس پھر کیا تھا خدادے اور بندہ لے۔نشان دہی کے لئے اس کی بھی ضرورت نہ تھی۔آچھیں ہی کافی تھی۔الغرض آچھیں، آچھیں، آچھیں، آچھیں پکڑے گئے تو خیر سے اپنے گاؤں کے ہی آدمی نکلے۔اور وہ بھی دشمن ٹولہ " کون ہے کون ہے؟ کون ہے؟ پاس ہی سے کوئی سوتا ہوا آدمی بولا کے۔آخر یہ فیصلہ ہوا کہ بجائے پولیس کے حوالہ کرنے کے ان کی اتنی مرمت چور ، چور چور، عاشق صاحب سمجھے کہ یہ چھینکیں عارضی تھیں بند ہو جائیں گی کر دی جائے کہ پھر ساری عمر دوبارہ ایسا کام نہ کر سکیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا ایک اور مجھے تو اب کوئی دیکھ بھی نہیں سکتا وہیں جمے کھڑے رہے کہ اتنے میں اور بھی جوتا۔دو جوتے۔تین جوتے۔آچھیں“ بھٹی چھینک آ گئی ہے پھر سے گنو۔زیادہ زور سے نیا حملہ آچھیں کا شروع ہوا۔مگر اُس کے پائے ثبات میں تزلزل ایک جوتا۔دو جوتے۔تین جوتے۔آچھیں، غرض معلوم نہیں کہ کب تک یہ نہ آیا۔کیونکہ اُسے یقین تھا کہ اب میں کسی کو نظر ہی نہیں آ سکتا۔آخر گھر والا سلسلہ جاری رہا۔لوگ مارتے مارتے تھک گئے مگر اُس کی آچھیں“ نہ تھی۔اُٹھا محبوبہ تو پہلی ہی چھینک کے ساتھ فقر و ہو گئی تھی۔گھر والا سیدھا مجرم کو خیر اچھی طرح پٹ پٹا کر بیچارہ اپنے گھر پہنچا تو وہاں اپنے لوگوں نے لعنت پکڑنے اس کی طرف دوڑا اور کہنے لگا کہ ”میں نے تجھے پہچان لیا ہے۔او ملامت کی۔لیکن آچھیں اُس وقت بھی جاری تھی۔مگر پھر بھی اُس کے حُسنِ فلانے ٹھہر تو جا۔جاتا کہاں ہے؟ اُس وقت اُس شخص کو پتہ لگا کہ میں تو عقیدت میں کمی نہ آئی۔دوسرے دن بیچارہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے پاس لوگوں کو نظر آ رہا ہوں۔یہ جا وہ جا۔یہاں سے کود ” آچھیں وہاں سے کود پہنچا کچھ حال سُنایا کچھ دکھایا اور کہنے لگا کہ ”ضرور کوئی کسر رہ گئی ہو گی“۔اس پر چھیں گلی میں آچھیں موڑ پر آچھیں اتنے میں غل مچ گیا۔”چور، ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے کہ اوہو بھئی تمہارے جانے کے بعد یاد آیا کہ میں چور ، آچھیں، آچھیں۔ایک ضروری بات کہنی بھول گیا تھا۔شاید تم کو میں نے نہیں بتایا تھا کہ باوضو گاؤں کے لوگ باہر نکل آئے اور تعاقب شروع ہو گیا۔مگر میاں وہاں جانا بے وضو کی ناک میں یہ عمل وہ اثر نہیں کرتا“۔بیچارہ سُن کر کہنے لگا آچھیں کو بھی اپنی موت نظر آئی تھی۔اس لئے ٹانگوں میں غیر معمولی طاقت پیدا ”اب تو کان کو ہاتھ لگاتا ہوں ایک دفعہ کسی اور پر آزما کر پھر بتائیے گا۔میری ہو گئی تھی۔اگر چہ دوڑنے میں ہرن کو بھی مات کرتے جاتے تھے مگر آچھیں“ تو ہمت نہیں پڑتی۔ایسا نہ ہو پھر کوئی بات رہ جائے“۔کا سلسلہ برابر جاری تھا۔حتی کہ گاؤں سے باہر نکل آئے مگر آچھیں“ کی وجہ " " ( نوٹ از مصنف) اس قصہ سے ملتا جلتا ایک قصہ فسانہ آزاد میں بھی 1