آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 34 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 34

65 64 پڑھا ہے۔شاید ڈاکٹر صاحب موصوف نے بھی وہی پڑھ کر اس بے وقوف شخص بھئی واللہ کیسا مزیدار چلاؤ ہے آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں؟ مگر وہ بچارے کو اپنا تختہ مشق بنایا ہو گا۔(30) پلاؤ میں دانت انہی میرے ہم نام ڈاکٹر صاحب کا ذکر ہے کہ ان کو پلاؤ کھانے کا کیا کھاتے اُن کے دانتوں نے تو اس پلاؤ کو کھانے کے قابل چھوڑا ہی نہ تھا۔(31) دواؤں کا مرتبان میرے ایک دوا خور مہربان جو ہر وقت اپنی صحت کا بہت خیال رکھتے از حد شوق تھا۔اور پلاؤ بھی رکابی میں نہیں بلکہ بڑے طباق یا سینی میں ڈال کر۔ہیں۔میں اکثر جب بھی اُن سے ملتا تو ہمیشہ یہی سنتا کہ انہیں شکایت رہتی ہے لوگوں کو بھی اُن کا یہ شوق معلوم تھا۔ایک دن کسی دوست نے دعوت کی جس کہ بھوک بالکل نہیں ہے۔برسوں میں نے یہ سنا پھر جو معلوم کیا تو حسب ذیل میں بہت سے آدمی بلائے گئے۔میزبان نے سب کے آگے تو پلاؤ کی رکابیاں حالات اور اسباب اس مرض کے روشنی میں آئے:۔رکھیں مگر اُن کے آگے ایک بڑی سینی بھر کے رکھوا دی۔وہ بھی دیکھ کر بہت خوش صبح 5 بجے ملازمہ نے آکر جگایا کہ ”میاں اذان ہو رہی ہے میاں ہوئے اور کہنے لگے کہ ”طباق یا سینی میں بہت سا پلاؤ سامنے رکھنے کا مجھے نے کہا ”ہوں“ ملازمہ نے کہا ”میاں یہ معجون کھا لیں“ چنانچہ انہوں نے کھا صرف شوق ہی شوق ہے۔میں اتنا کھا نہیں سکتا۔آپ میں سے تین چار آدمی لی۔تھوڑی دیر میں آواز آئی۔”میاں وضو کر لیں“ اور دوسری ملازمہ بولی ”میاں میرے ساتھ اسی سینی کے کھانے میں شریک ہو جائیں۔یہ گولی اور عرق پی لیں۔چنانچہ پی لی اور وضو کر کے نماز پڑھ لی۔سلام خیر چند دوست شریک ہو گئے۔اُن کی یہ بھی عادت تھی کہ خود ہی لطیفہ پھیرتے ہی ہمدرد دوا خانہ دہلی کا ایک قرص اور ماء اللحم دو آتشہ آدھ پاؤ پیش کہا کرتے تھے اور خود ہی سخت قہقہہ مار کر ہنسا بھی کرتے تھے۔دعوت میں ہوا۔پی کر لیٹ گئے۔آٹھ بجے ناشتہ سے پہلے ہندوستانی دواخانہ کا گلقند اور باتیں کرتے کرتے انہوں نے کوئی بات مذاق والی کہی جسے سُن کر سب ہنس شربت بنفشہ استعمال کئے گئے۔ناشتہ پھر کیا کرنا تھا۔مگر اس کے بعد ہاضمہ کا پڑے۔مگر دوسروں سے زیادہ وہ خود ہنسوڑے تھے۔اس زور سے منہ کھول کر چورن البتہ چاٹا گیا۔دوپہر کو صرف عرق گاؤ زبان کیوڑہ اور بید مشک کا ایک قہقہہ لگایا کہ منہ کا سارا لقمہ دانہ دانہ ہو کر باغ کے پھوارہ کی طرح نہ صرف گلاس پیا گیا۔دو بجے بعد دو پہر کھانے سے پہلے مفرح عنبری بمع عرق ماء اللحم ساری سینی پر بلکہ دوسرے ساتھیوں کے کپڑوں اور چہروں پر بھی بکھر گیا۔اور سه آتشه نوش فرمائی گئی۔مگر بھوک پھر بھی نہ کھلی کھانے کے بعد نمک سلیمانی اور ساتھ ہی ان کے مصنوعی دانتوں کا ثابت چو کا منہ سے نکل کر عین سینی کے کوئی اور مرکب سفوف مع عرق سونف معتدل کے پیا گیا۔اور اُس کے آدھے بیچوں بیچ بمب کی طرح پھنس گیا۔دیکھنے والوں کے پیٹوں میں ہنس ہنس کر بل گھنٹہ بعد معجون سنگدانہ مرغ۔عصر کے وقت ایک قدح پھر اسی قسم کے جو شاندہ پڑ گئے۔مگر ڈاکٹر صاحب نے بھی بجلی کی سی پھرتی کے ساتھ وہ دانتوں کا چو کا تو کا جو گلے اور معدہ کے بلغم کو صاف کرے پیا گیا۔کہ اتنے میں تیسرے پہر کا جھٹ منہ میں ڈال لیا اور پکار پکار کر اپنی سینی کے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ ناشتہ اور چائے آئی مگر بوجہ بھوک نہ ہونے کے خواہش کے ساتھ نہ پی جاسکی۔