آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 32
61 60 دے جاتے ہیں۔اور سرٹیفیکیٹ بھی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جب رفع دفع ہو گیا بجائے انفرادی سزا کے ایک قوم کی اصلاح ہوگئی اور گناہ کا اُن سے کہو کہ " کیا اس نجاست کے نوش جان کرنے کے لئے آپ نے اس سدِ باب بھی ہو گیا۔خاکسار کو ہی منتخب فرمایا ہے؟ تب انہیں بھی پتہ لگتا ہے کہ ہم کیسے شخص سے مخاطب ہیں۔اور کیا کہہ رہے ہیں۔(28) کچی اصلاح (29) آچھیں میرے ہم نام ایک میرے بزرگ دوست تھے اور وہ ڈاکٹر بھی تھے۔مزید برآں یہ کہ نہایت بامذاق بھی۔گوڈیانی ضلع رہتک کے رہنے والے تھے۔اک معزز گھرانے کی ہندو بیوہ نے حرام کا بچہ جنا پھر اُس کا گلا ایک دن اپنا ذاتی واقعہ مجھے سنانے لگے۔کہ میں ایک شفا خانہ میں متعین ہو گھونٹ کر جنگل میں کوڑی کے اندر دبا دیا۔کسی مخبر نے رئیس علاقے کو رپورٹ کر گیا تو لمبا تڑنگا وجیہہ اور ریشائیل ہونے کی وجہ سے وہاں میری بزرگی کی کر دی نعش برآمد ہوگئی اور نشان دہی پر وہ عورت میرے پاس لائی گئی۔بعد بہت جلد شہرت ہو گئی۔ایک دن میرے پاس ایک جوان آدمی آیا اور کہنے لگا ملاحظہ میں نے رپورٹ کی ” اس عورت نے واقعی حال میں ہی بچہ جنا ہے“۔کہ الگ ہو کر کچھ عرض سُن لیں۔میں اُسے ایک طرف لے گیا تو کہنے لگا پھر اُس عورت نے خود بھی اقرار کر لیا۔رئیس علاقہ بڑا سمجھ دار آدمی تھا اُس نے کہ ”ہمارے علاقہ کے بزرگ اور پیر تو آپ ہی ہیں۔خدا کے لئے میری اُس شہر کے معزز ہندؤں کو بلا کر کہا کہ یہ معاملہ قتل کا ہے۔ساتھ ہی تم سب روحانی مدد کریں۔میں نے کہا ” کیونکر کہنے لگا کہ اپنے گاؤں کی ایک لڑکی کی بے عزتی اور بدنامی بھی ہے۔مقدمے پر بھی ہزاروں روپے لگ جائیں پر میں عاشق ہو گیا ہوں۔اور آج اُس نے کہلا بھجوایا ہے کہ ہمارے پچھواڑے گے۔اور ایک معزز خاندان کی عورت کئی سال کے لئے جیل خانہ میں بھیج دی کے احاطہ میں مجھ سے ملنے آ جانا۔ڈاکٹر صاحب! میرے دشمن بھی آس پاس جائے گی۔وہ سب رئیس کے پاؤں پر گر پڑے اور اپنی پگڑیاں اُتار کر اُس بہت ہیں کوئی ایسا تعویذ دیں یا مجرب عمل بتائیں کہ مجھے کوئی نقصان نہ پہنچے۔میں نے کہا تم میرے ہاں تیسرے پہر کو آنا میرے پاس ایک مجرب عمل ہے کے آگے رکھ دیں۔رئیس نے کہا: ”میں اس شرط پر یہ مقدمہ واپس لے لیتا ہوں کہ یہ ایک نسوار یا ہلاس ہے جو آدمی بھی لاحول پڑھ کر ایک سانس میں اُسے دونوں تمہاری ساری ہندو برادری میرے ساتھ عہد کرے کہ آئندہ کوئی جوان بیوہ طرف کے نتھنوں میں داخل کر کے زور سے دماغ میں چڑھا لے وہ پھر چھ گھنٹہ عورت بغیر نکاح ثانی کے میرے علاقے میں نہ رہ سکے گی۔اور یہ کہ بعد بیوہ تک کسی کو نظر نہیں آ سکتا۔لیکن خود سب کو دیکھ سکتا ہے۔ہونے کے ایک سال کے اندر اندر ہم لوگ اُسے کسی جگہ بٹھا دیا کریں گے۔" یہ سُن کر وہ شخص میرے پیروں میں لوٹ گیا اور کہنے لگا۔’واہ واہ سنگ آمد و سخت آمد کیا کرتے فطرت صحیحہ بھی یہی کہتی تھی اور موقعہ بھی میرے پیر دستگیر ! بس میرا کام تو بن گیا۔میں تیسرے پہر ضرور آؤں گا“۔ایسا ہی پیش آ گیا تھا۔غرض ایک محضر نامہ پر سب کے دستخط ہو گئے وہ معاملہ جب وہ چلا گیا تو میں نے کمپاؤڈر کے ہاتھ بازار سے دو پیسے کی تک