آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 106
209 208 مگر مظلوم و بے بس لاجونتی بالکل خاموش اور چپ تھی نہ نظر اوپر اٹھا کر کسی کو دیکھتی تھی نہ کسی بات کا جواب دیتی تھی۔جو لڈو اس نے منہ میں ڈال لیا تھا وہ منہ ہی میں رہا اس نے اُسے نہ نگلا نہ تھوکا۔وہ تصویر حزن و ملال بنی بیٹھی تھی۔اس کا دل رو رہا تھا مگر آنکھیں خشک تھیں زبان سے آہ نہ کرتی تھی مگر دل سے دھواں اُٹھ رہا تھا وہ گردن جھکائے بیٹھی تھی اور ساری کرخت اور سخت آوازیں سُن رہی تھی کہ اتنے میں خاوند بھی باہر سے آ گیا اور لاجونتی کے گرد گھر والوں کا جمگھٹا دیکھ کر سیدھا ادھر ہی چلا آیا۔ماں تو اس کی منتظر ہی ہی تھی دیکھتے ہی بولی اچھا ہوا تو جلدی آ گیا بات یہ ہے کہ ہم تو تیری نئی نویلی دلہن کے ہاتھوں اب سخت تنگ آ گئے ہیں۔اس کے چٹور پن نے گھر کے سارے غلہ کو تو ختم کر ہی دیا اب کچھ دنوں میں گھر کا سب مال و اسباب بھی غلہ کی طرح غائب ہو جائے گا اور پتہ نہیں لگے گا کہ کہاں گیا۔بھلا غضب نہیں تو اور کیا ہے کہ آج پانچ چھ سیر غلہ کے لڈو اس نے منگائے اور سب اکیلی بیٹھ کر ہڑپ کر گئی۔یہ دو چار باقی تھے کہ میں پہنچ گئی۔یہ آج کچھ نئی بات نہیں جب سے غلہ گھر میں آ کر پڑا ہے تب سے روز غلہ کی مٹھائیاں آتی ہیں اور مزے میں کھائی جاتی ہیں۔خبر نہیں پیٹ ہے یا دوزخ کہ کسی طرح بھرنے ہی میں نہیں آتا۔ایسی چٹوری عورت میں نے آج تک کوئی نہیں دیکھی۔روٹی کھائی اس نے بالکل چھوڑ دی ہے۔جب بھوک لگی کوٹھڑی میں بڑی اور مٹھائی کھالی۔منہ صاف کیا اور باہر چلی آئی۔آخر اس طرح کب تک گزارہ ہو گا؟ اور گھر کب تک لٹتا رہے گا؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم تیرا بیاہ ایسی چٹوری اور منحوس لڑکی سے کر کے بہت ہی پچھتائے۔یہ تو کچھ ہی دنوں میں بھرے گھر کا صفایا کر کے رکھ دے گی۔بیٹا آخر اپنی ماں ہی کا لڑکا تھا وہ غصہ اور طیش میں اپنی والدہ محترمہ " " سے کس طرح پیچھے رہ سکتا تھا۔یہ سنتے ہی اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ چولھے میں سے جلتی ہوئی لکڑی کھینچ تین چار زور زور سے بیوی کے ایسی لگائیں کہ وہ تڑپ اٹھی اور کہنے لگا دفع ہو یہاں سے جا اپنے متا باوا کے ہاں جنہوں نے تجھے ایسا چٹورا بنایا۔ہمارے گھر میں ایسی چٹوری عورت کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔خبر دار اب اس گھر میں قدم مت رکھیو۔اگر حیادار ہو گی تو کنویں میں ڈوب مریو مگر ہمیں اپنی شکل نہ دکھائیو۔اب یہاں بیٹھی ہوئی کیا اپنے اماں باوا کو رو رہی ہے۔چل اُٹھ اور نکل یہاں سے یہ کہہ کر دو تین لکڑیاں اس کے اور ماریں اور ہاتھ پکڑ کر کھڑا کر دیا۔لاجونتی سارے گھر کا بُرا بھلائن رہی تھی مگر اسے خفیف سی امید اس بات کی تھی کہ شوہر آئے گا تو شاید میرے ساتھ کچھ نرمی کا برتاؤ کرے مگر وہ آیا تو اس نے سب ہی پر پڑا دے مارا۔بیوی کے ساتھ بیٹے کا یہ سلوک دیکھ کر ماں کی باچھیں کھل گئیں اور بے اختیار اس کے منہ پر ہنسی آگئی۔جب شوہر نے ہاتھ پکڑ کر بیوی کو کھڑا کر دیا تو لاجونتی نے نظر اوپر اٹھائی اور غضبناک شوہر کی طرف ایسی التجا اور حسرت کے ساتھ دیکھا کہ سنگدل سے سنگدل انسان کا دل بھی نرم پڑ جاتا مگر بے درد خاوند پر کچھ اثر نہ ہوا۔وہ بڑے غصے کے ساتھ بیوی کو دروازے تک گھسیٹتا ہوا لے گیا اور وہاں پہنچ کر زور سے ایک لات اس کی کمر میں ماری اور دروازہ بند کر کے واپس آ گیا۔مظلوم، مجروح اور مضروب لاجونتی نے مڑ کر شوہر کے مکان پر اس مکان پر جہاں اس نے سہاگ کے دو تین مہینے بہت تکلیف اور مصیبت کے ساتھ بسر کئے تھے ایک نگاہ ڈالی اور خاموشی کے ساتھ آہستہ آہستہ روانہ ہو گئی۔