آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 107 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 107

211 210 اس کا جسم جلتی ہوئی لکڑی کی چنگاریوں سے جگہ جگہ سے جل گیا تھا۔اس کا تمام بدن لکڑی کی ضرب سے زخمی ہو گیا تھا۔اس کے کپڑے لکڑیوں میں الجھ کر پھٹ گئے تھے مگر وہ اسی حالت میں خاموشی کے ساتھ آگے چلتی گئی۔اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب اسے کیا کرنا چاہئے؟ تین چار منٹ میں وہ اس کو ئیں پر پہنچ گئی جس سے سارے گاؤں کی عورتیں پانی بھرا کرتی تھیں مگر اتفاق سے اس وقت کوئی عورت وہاں موجود نہ تھی۔لاجونتی نے یہ دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا۔وہ کوئیں کی من پر بیٹھ گئی اور چاروں طرف نظر دوڑانے کے بعد اس نے اپنے کپڑے اتارنے شروع کئے۔جب اتار چکی تو ایک اینٹ ان پر رکھ دی تا کہ کپڑے ہوا سے اُڑ کر کوئیں میں نہ جا پڑیں۔اس کے بعد کھڑی ہوئی اور ایک چھلانگ میں کوئیں کی تہہ میں پہنچ گئی۔موت کا تلخ اور کڑوا پیالہ تھا جو جاہل گھر والوں اور ظالم شوہر کے ہاتھوں نہایت حسرت و الم کے ساتھ بدنصیب لاجونتی کو پینا پڑا۔اتنی ذلت، اتنی بے عزتی اور اس قدر سب وشتم کے بعد اس کی غیرت وحمیت نے گوارا نہ کیا کہ وہ اس پر مصائب دُنیا میں زندہ رہے اور مزید تکالیف برداشت کرے۔جب لاجونتی کی لاش گاؤں سے پوسٹ مارٹم کے لئے شہر کے سرکاری شفا خانے میں پہنچی تو میں اس وقت اسٹنٹ سرجن صاحب کے پاس بطور مہمان مقیم تھا۔میں نے کہا ڈاکٹر صاحب! میں نے آج تک کبھی پوسٹ مارٹم ہوتے نہیں دیکھا خواہش ہے کہ ایک دفعہ دیکھوں۔اس وقت اتفاق سے یہ موقع آ گیا ہے مجھے بھی ساتھ لے چلیں“ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ”نظارہ سخت ہوتا ہے اور تم نرم دل ہو“ میں نے کہا ” میں برداشت کر لوں گا‘ فرمانے لگے ”اچھا چلو“ چنانچہ ہم دونوں لاش گھر پہنچے۔شوہر اور سرے وغیرہ میں سے تو کوئی ساتھ نہ تھا۔نمبردار اور گاؤں کے دوسرے لوگوں سے جو ارتھی کے ساتھ آئے تھے جب ڈاکٹر صاحب نے متوفیہ کی موت کا سبب پوچھا تو انہوں نے کچھ تامل کے ساتھ وہ دردناک کہانی بیان کی جو آپ نے اوپر پڑھی۔لاش کا پوسٹ مارٹم شروع ہوا۔میں پاس کھڑا تھا۔سر کی کھوپڑی اُتاری گئی سینہ چیرا گیا۔پیٹ چاک کیا گیا۔آنتیں، پھیپھڑے اور گردے نکالے گئے۔معدہ دیکھا گیا۔یہ ہیبت ناک نظارہ میرے لئے واقعی بہت سخت تھا مگر جس طرح بنا دل پر جبر کئے میں پاس کھڑا دیکھتا رہا اور بدنصیب لا جونتی کو جوان مرگی پر افسوس کرتا رہا۔یکا یک ڈاکٹر صاحب نے کہا ”سمعیل! یہ دیکھو کیا ہے؟" میں نے گھبرا کر جو گردن موڑی تو میز پر ایک شفاف جعلی رکھی تھی۔جو ڈاکٹر صاحب نے رحم میں سے نکالی تھی۔میں نے دیکھا کہ جھلی میں پانی بھرا ہوا ہے اور پانی کے بیچ میں چاول کے برابر ایک چھوٹا سا پہلا تیر رہا ہے۔یہ معلوم ہوتا تھا کہ چینی یا ہاتھی دانت کی ایک بہت خوشنما تصویر ہے۔تعجب اس بات کا تھا کہ اتنے چھوٹے سے پتلے میں تمام انسانی اعضاء بالکل صاف صاف اور نمایاں نظر آ رہے تھے۔کئے میں نے انتہائی حیرت سے پوچھا ”ڈاکٹر صاحب! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے مغموم آواز میں جواب دیا ”کم بختوں نے دو (2) خون یہ اسٹنٹ سرجن حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل تھے جو اس وقت سونی پت ضلع رہتک میں تعینات تھے اور میں ان کے بلانے پر چند روز کے لئے ان کے پاس گیا ہوا تھا۔