آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 105
207 206 ا ہی کا صفایا ہو جائے ؟ جیٹھانی روٹی پکا رہی تھی وہ وہیں سے بیٹھی بیٹھی بولی باری آئے گی اور اس طرح آہستہ آہستہ سارے گھر کی صفائی ہو جائے گی۔زبان کا مزا آخر کہاں جائے ، ماں باپ نے ہنر سلیقہ تو خاک نہ سکھایا ہاں دیور نے بگڑ کر جواب دیا ”میں نے کس دن ان کی تعریفیں کی تھیں؟ میں تو ان کے پیچھن شروع ہی سے دیکھ رہا تھا مگر زبان سے اس لئے نہ کہتا تھا کہ بھائی کو ملائیاں مٹھائیاں کھانی البتہ سکھا دی ہیں۔بیچاری کیا کرے، مجبور ہے روٹی تو اسے ملتی ہی نہیں اب مٹھائیاں منگا منگا کر نہ کھائے تو غریب کا پیٹ کس طرح بُرا لگے گا۔باقی میرا تو یہی خیال ہے کہ ایسی چٹوری عورت گاؤں بھر میں نہ ہو بھرے؟“ گی۔عین اس وقت جبکہ گھر کی ہر عورت لاجونتی کو بُرا بھلا کہہ رہی اور اسے جیٹھ کھیت سے آیا تو اس نے خلاف معمول سارے گھر کو ایک ہی طعنے تشنے دے رہی تھی لاجونتی کا خسر باہر سے آ گیا۔جونہی اس نے دروازہ جگہ جمع دیکھ کر کہا " خیر تو ہے کیا بات ہے؟ باپ بولا خیر کہاں، خیر ہوتی تو ہم میں قدم رکھا، بیوی نے اُسے آواز دی اور کہا ”ذرا یہاں تو آؤ اس نے پوچھا اس بہو کو بیاہ کر ہی کیوں لاتے۔جب سے یہ گھر میں آئی ہے گھر کا ستیاناس " کیا جھگڑا ہے؟ بیوی بولی جھگڑا کچھ بھی نہیں۔اب اپنے گھر بار سے ہاتھ ہو گیا ہے۔خبر نہیں یہ بلا ہمارے سر سے کب ملے گی؟ مر جائے تو پاپ کٹ دھوؤ اور جو کچھ جمع پونچی ہے شوقین مزاج بہو کے حوالے کر کے بھیک کا ٹھیکرا جائے جیٹھ نے پوچھا "آخر بات تو بتاؤ قصہ کیا ہے؟“ ماں بولی " تجھے دکھائی ہاتھ میں لے لو۔یہ دیکھو اس نے پانچ سیر غلہ بھیج کر لڈو منگوائے، بیٹھی کھا رہی نہیں دیتا۔سامنے لڈو پڑے ہیں بس یہی قصہ ہے اور کچھ بھی نہیں۔روزمرہ تھی۔ذرا سے رہ گئے تھے کہ اتفاق سے میں ادھر آ نکلی۔میں نے تم سے پہلے بہو محلے کے بچوں کے ہاتھ غلہ نکال کر بھیج دیتی ہے اور مٹھائیاں منگا کر کھا لیتی کہا نہیں منوں غلہ اب تک تمہاری یہ چہیتی بہو اسی طرح اُڑا چکی ہے۔فصل میں ہے۔اس کی بلا سے چاہے گھر میں تنگی ہو چاہے فاقہ اسے تو اپنے حلوے ابھی تین مہینے پڑے ہیں اور گھر میں غلہ چدرہ ان کا بھی باقی نہیں رہا۔اب مانڈے سے کام اس پر جیٹھ بولا ”جو سارا دن کام دھندا کچھ نہ کرے گی اور فصل آنے تک یا تو فاقے کردیا بھیک مانگو۔پڑی ہوئی اینڈتی رہے گی وہ جو کچھ نہ کر گزرے تھوڑا ہے اور ابھی کیا ہے یہ سنتے ہی خسر کو سخت غصہ آیا اور کہنے لگا کہ ”ہماری قسمت پھوٹ گئی آگے آگے دیکھنا کیا کیا گل کھلتے ہیں۔یہ بہو تو تمہارا اچھی طرح سر مونڈ کر جو ایسی چٹوری بہو ہمارے پہلے پڑی ہمیں خبر ہوتی کہ اس کو زبان کا ایسا چسکا رہے گی۔" ہے تو کبھی بھول کر بھی اسے گھر نہ لاتے۔اب تو یہ ساری عمر کا جلاپا ہمارے نصیب میں لکھا گیا۔نندوئی کچھ سودا سلف لینے شہر گیا ہوا تھا وہ بھی لدا پھندا اتفاق سے اسی وقت گھر پہنچا اور قصہ سُن کر کہنے لگا اسے زباں کا اس قدر مزا ہے تو تھوڑا لاجونتی کا دیور اس وقت پڑا ہوا سو رہا تھا شور سے اُس کی آنکھ کھل گئی سا زہر ہی کھلا دو۔“ وہ آنکھیں ملتا ہوا آیا تو ماں اس سے کہنے لگی تو اپنی بھابی کی بڑی تعریفیں کیا اس وقت سارا گھر لاجونتی کو گھیرے کھڑا تھا۔گھر والوں میں سے کوئی کرتا تھا اب دیکھ اپنی بھابی کی کرتوت! ذرا اللہ ختم ہوئے تو پھر گہنے پاتے کی بھی ایسا نہ رہا تھا جس نے لاجونتی کو بُرا بھلا کہہ کر اپنے دل کا بخار نہ نکالا ہو