آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 84
165 164 چاقوؤں کے بکسوں اور پارسلوں کی تہوں کے اندر رکھی ہوتی۔کبھی سوئیوں، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پنجاب میں کسی جگہ کو کین پکڑی گئی۔جب لیموں اور دیگر مال تجارت کے اندر مخفی طور پر پوشیدہ ہوتی۔پھر خوردہ فروشی میں کیمیکل ایگزامیز کے ٹیسٹ ہونے گئی تو واقعی کو کین ثابت ہوئی۔مجرموں کو سزا دہلی آ کر بھی نہایت احتیاط سے بکتی تھی۔اگر آپ کو ایک چھہ آنہ کی پڑیا در کار مل گئی اور کوکین ضبط ہو کر شفا خانوں میں آپریشنوں کے لئے تقسیم کر دی گئی۔ہوتی تو آپ کو کین کے ایجنٹ سے براہ راست نہیں لے سکتے تھے۔بلکہ بعض یہ چھپیں تمہیں سال کا واقعہ ہے۔مگر آپ سُن کر حیران ہوں گے کہ میں جب بھی برقعہ پوش عورتیں یہ کام کرتی تھیں جو پیسے لے لیتی تھیں اور کہہ دیتی تھیں کہ اس کو کین کو کسی مریض کی آنکھ میں ڈالتا تھا تو آنکھ بے حس نہ ہوتی تھی۔آخر ”فلاں مکان کے دروازے کے پاس دیوار کی ایک اینٹ اُکھڑی ہوئی ہے تنگ آ کر وہ پڑیا میں نے صاحب کیمیکل ایگزامیر کے پاس بھیجی کہ اسے اُس رخنہ میں ایک پتھر کے نیچے چھہ آنے والی ایک پڑیا دبی رکھی ہے وہ جا کر ٹیسٹ کر دیں۔آیا اس میں کوکین ہے یا نہیں؟ وہاں سے جو جواب آیا وہ مجھے لے لو یہ کام بہت خطر ناک تھا کیونکہ پولیس بھی بلائے بے درمان کی طرح دن بعینہ اب بھی یاد ہے اور ہدیہ ناظرین ہے: رات اس گروہ کے پیچھے لگی رہتی تھی۔کوکین کھانے سے نہ صرف منہ اور گلاسن ہو جاتا ہے بلکہ سارا بدن ہی سُن معلوم ہونے لگتا ہے۔علاوہ ازیں اس میں سرور بھی ہوتا ہے جیسے بھنگ یا شراب وغیرہ میں، مگر جب زیادہ مقدار میں کھاتے رہیں اور عادت پرانی ہے ہو جائے تو بھوک پیاس مر جاتی ہے۔بدن کی کھال خشک ہو جاتی ہے اور اس قدر اس میں خارش رہتی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کپڑوں کے اندر پتو پھر پھرا "NOT A SINGLE PARTICLE COCAIN WAS FOUND IN THE POWDER SENT BY YOU" یعنی تم نے جو پوڈر ہمیں بھیجا ہے اس میں کوکین کا ایک ذرہ تک موجود نہیں ہے۔“ تعجب ہے کہ ایک مقدمہ چلے، وہ چیز کو کین ثابت ہو۔ملزم بھی سزا پا جائیں۔پھر دوسری دفعہ وہی پوڈر کو کین ثابت نہ ہو۔العجب! ثم العجب! شاید رہے ہیں یا کھٹمل چل رہے ہیں۔اس تکلیف کی وجہ سے نیند جاتی رہتی ہے۔یہ بات ہو کہ وہ پہلی چیز کو کین ہی ہو مگر پھر مقدمہ کے بعد کسی حاجتمند نے آدمی کبھی ایک حصہ بدن کو نوچتا ہے کبھی دوسرے کو بالآخر پاگل ہونے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ہندوستان میں اس کی عادت عیاش لوگوں کی آوردہ ہے اور مشہور معجون فلک سیر کا بھی یہ ایک جزو ہوا کرتی تھی۔جس کی عادت کی وجہ سے دِتی کے سینکڑوں عیاش اور رئیس زادے تباہ اور برباد ہو گئے۔کوکین آنکھ، ناک وغیرہ کے آپریشنوں کے وقت ان کو بے جس کرنے کے کام آتی ہے۔پھر کلوروفارم کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور یہی اس کا اصل فائدہ ہے۔اُسے اُڑا لیا ہو اور اُس کی جگہ بورک ایسڈ رکھ دیا ہو واللہ اعلم۔(97) بیویوں کے نوکر پا ایک دن میں رہتک کا زنانہ شفاخانہ دیکھنے گیا۔خود شفاخانہ میں تو حسب ضرورت جانا ہی پڑتا تھا مگر اتوار کو جو چھٹی کا دن ہوتا ہے دیگر متعلقہ سرکاری مکانات اور عام صفائی وغیرہ بھی دیکھی جاتی ہے۔عملہ کے مکانات