آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 83
163 162 یہ دہلی 1911ء کی بات ہے۔میں دربار ڈیوٹی پر اس سال وہیں ہے۔مگر انگریزی دوا فروش اس کے نام سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے دیتے تھے تو کہا کرتے تھے یہ تین آنہ والا ہے۔سہانجنا کا عرق صرف اسی دکان پر ملا کرتا تھا اور ڈاکٹر صاحب بھی اُسے مریض کے فائدہ کے لئے نہیں لکھتے تھے بلکہ صرف اپنے فائدہ کے لئے۔متعین تھا۔اجمیر کا ایک کو کین خور بھی اس مکان میں تھا۔اس نے بازار سے اسی طرح کا ایک قصہ اور بھی مشہور ہے کہ جب دہلی کے ایک کوکین والے کئی پان کھائے تو لازماً منہ سُن ہو گیا۔پھر گھر میں آ کر اس نے مشہور عطار نے اپنی دکان کھولی تو انہوں نے حکیم محمود خاں صاحب دہلوی سے سادے اور عام پان کھانے شروع کئے اور ساری رات ہی کھاتا رہا۔میرے کہا کہ ” میری سر پرستی فرمائیے۔آپ کی ذراسی توجہ سے میری دکان چل پڑے اندازے میں کوئی سو پان کھائے ہوں گے۔نتیجہ یہ ہوا کہ منہ ہونٹ اور زبان گی حکیم صاحب نے کہا اچھا تم بازار سے کچھ دوائیں اور ایک ٹین سب سوج گئے اور صبح ہوتے ہوتے وہ چار پائی پر اوندھا منہ کئے پڑا تھا اور رال کا بمبالا کر اُس میں پانی بھر کر دُکان میں رکھ چھوڑو۔میں جب کسی نسخہ میں عرق منہ سے بہہ رہی تھی۔کئی دن میں جا کر اُس کی یہ سوجن اور ورم اُترا۔بمبا کا لفظ لکھا کروں تو تم اس بمسے کا پانی ہمراہ دیگر ادویہ کے دے دیا کرو اور تاجروں نے لاکھوں روپیہ اسی کوکین کی تجارت سے کمایا اور بطور - آمدنی کی طرف سے بے فکر ہو جاؤ“۔رشوت رنڈیوں کو دیا تا کہ وہ امراء کو کو کین کھانا سکھائیں۔کوکین میں بے ہوشی چنانچہ وہ صاحب حکیم صاحب کی مہربانی کی وجہ سے درجہ اوّل کے والا نشہ نہیں ہوتا۔پرانے عادی اپنی عادت پوری کرنے کے لئے اسے کھاتے عطار بلکہ حکیموں کے بھی استاد بن گئے۔دونوں کہانیوں میں فرق یہ ہے کہ وہ ہیں۔ڈاکٹر صاحب بدنیت تھے اور خود کمیشن لیتے تھے مگر حکیم محمود خاں صاحب کو کمیشن دتی میں ایک سوداگر تھے جو صرف میاں بیوی تھے اور اولاد نہ رکھتے کا خیال بالکل نہ تھا بلکہ ایک سمجھدار اور لائق شخص کی دکان کو ترقی دینے کا اور محض تھے۔انہوں نے اس کی تجارت شروع کی۔لاکھوں کا فائدہ ہوا۔کئی مکان بنا اس کی ہمدردی کا خیال تھا۔(96) کوکین لئے۔آخر ایک دن یہ خیال آیا کہ جس چیز نے اتنا مالی فائدہ اور برکت دی ہے اُسے خود بھی کھا کر دیکھیں۔غرض اس طرح اُن کا نشہ شروع ہوا۔پھر بیوی کو بھی ساتھ شامل کر لیا۔رفتہ رفتہ دماغ کی تیزی اور عقل کم ہوتی گئی۔کاروبار کوکین کھانے کا رواج ہندوستان میں پہلی جنگ عظیم سے کئی سال ابتر ہوتا چلا گیا۔آخر میں سب جائداد اور اندوختہ کوکین پر ہی برباد ہو چکا تھا۔پہلے کا شروع ہے مگر اب کم ہو گیا ہے کیونکہ جنگ کے زمانہ میں اس کی درآمد بوڑھے میاں بیوی خبطیوں کی طرح گھر میں پڑے رہا کرتے تھے اور ہفتہ میں مشکل ہے۔بمبئی ، کلکتہ، اجمیر، دہلی اس کے مرکز اور صدر مقام تھے۔یہ عموماً دو دفعه بازار سے سیر بھر بالائی لا کر کھا لیا کرتے تھے بس یہی اُن کی غذا تھی۔پان میں رکھ کر کھائی جاتی ہے اور پنواڑی لوگ جب عام پان بنا کر گاہک کو آخر اسی حالت میں نیم دیوانہ ہو کر دُنیا سے گزر گئے۔دیتے تھے تو کہا کرتے تھے کہ یہ ایک پیسہ والا پان ہے اور جب کوکین والا کو کین عجیب عجیب طرح غیر ملکوں سے آیا کرتی تھی۔کبھی قینچیوں اور