آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 85
167 166 دیکھتے دیکھتے میں زنانہ کمپاؤڈر کے مکان میں بھی گیا۔وہ ایک عیسائی عورت ہیں اور اکثر ان میں سے چال چلن کے لحاظ سے بھی۔سگریٹ نوش، شرابی ، تھی جس کے تین چار بچے تھے۔اندر جا کر میں نے اُس سے پوچھا کہ یہ جواری ، تاش کھیلنے والے اور آوارہ ہوتے ہیں اور جونک کی طرح اپنی بیویوں کون ہیں؟ اُس نے کہا ”یہ میرے بچے ہیں میں نے پوچھا اور یہ؟“ وہ کی آمدنی کا خون چوستے رہتے ہیں۔بولی ”یہ میرے ہسبینڈ ہیں (یعنی خاوند ) میں نے پوچھا ”یہ بھی کچھ کام سوسائٹی وہی آرام دہ ہے جس میں مرد کے ذمہ عورت اور بچوں کے کرتے ہیں؟ کہنے لگی ان کے لئے گھر کا کام ہی بہت کافی ہے۔جھاڑو جملہ اخراجات ہوں اور مرد کماؤ ہو نہ کہ عورت۔جب عورت کمانے لگتی ہے تو صفائی، سودا لانا، کھانا پکانا، برتن صاف کرنے ، بچوں کو نہلا نا ڈھلانا وغیرہ میں نے کہا اور ان باتوں کا معاوضہ؟ ہنس کر کہنے لگی کہ ”جب میں شفاخانہ سے دو پہر کو کھانا کھا کر سو جاتی ہوں اور اپنا کوٹ اُتار کر کیلوں پر لٹکا دیتی ہوں تو یہ میرے کوٹ کی جیب میں سے ضرور کچھ نہ کچھ چوری کر لیا کرتے ہیں اس کا خاوند بھی ہمارے ساتھ ہنسی میں شریک ہو گیا اور کہنے لگا "کسی طرح گزارا جو کرنا ہوا۔آخر سگریٹ کہاں ہوا۔آخر سگریٹ کہاں سے پیئیں؟“ میں نے عموماً 66 اس کا اپنا خاوند اس کی نظر میں حقیر اور ذلیل ہو جاتا ہے اور اس بات کا اولاد کی ذہنیت پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔(98) ہیجڑوں کی کرامت 1905ء ذکر ہے کہ میں پہلی دفعہ ملازم ہو کر دہلی میں متعین ہوا۔گرمی اس سال سخت پڑی اور بارش کے ہونے میں اس قدر کھینچ ہو گئی کہ زمین العطش العطش پکارنے لگی۔ہندوؤں نے غرباء کے لئے لنگر کھول دیے ہندوستانی عیسائی عورتوں کو دیکھا ہے کہ وہ مشن کی امداد کی بدولت اچھی تعلیم حاصل کر لیتی ہیں۔کوئی لیڈی ڈاکٹر بن جاتی ہے۔کوئی اسکول مسٹرس، کوئی اور مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ نماز استسقاء پڑھی جائے چنانچہ پہلے روز حنفی جمع ہو کر جنگل میں گئے۔نماز استسقاء پڑھی، چادر میں اُلٹا اُلٹا کر دعائیں مانگیں لیڈی ہیلتھ وزیٹر، کوئی نرس دائی ، مگر اسی کلاس کے عیسائی مردوں کا یہ حال ہے کہ اگر وہ کہیں عہدہ پر پہنچ جائیں تو یوریشین یا یورپین بیوی ڈھونڈتے ہیں۔اگر خود یوریشین ہوں تو ولایت سے دلہن لاتے ہیں۔اس حالت میں ان کے اور آ گئے۔دوسرے دن اہل حدیث اسی طرح گئے اور وہی عمل کر آئے۔تیسرے دن شیعہ گئے اور بارش کی دُعا مانگ کر آ گئے۔غرض روزانہ کوئی نہ کوئی فرقہ جاتا اور خدا سے بارش مانگتا مگر نا کام آ جاتا۔غالباً ساتواں دن تھا برابر درجہ والی عیسائی عورتوں کے لئے ان کی ٹکر کا خاوند ملنا محال ہو جاتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو وہ ساری عمر کنواری ہی بیٹھی رہتی ہیں یا پھر انہیں اسی قسم کے گھٹیا خاوند مل سکتے ہیں جو بیرے اور خانساماں کا کام دیں، ان کے بچوں کو پالیس مکان کو صاف رکھیں اور تھوڑے سے جیب خرچ یا چوری چکاری کے معاوضہ میں ان کے گھر کو آباد رکھیں۔یہ بیویاں اپنے خاوندوں کو خوب ڈانٹتی ڈیٹتی ہیں اور ان کو بہت ذلیل حالت میں رکھتی ہیں کیونکہ یہ نکھٹو ہوتے شہر میں غل بچ گیا کہ آج ہیجڑے بارش مانگنے جا رہے ہیں۔چنانچہ یہ لوگ جمع ہو کر دس بجے شہر سے باہر نماز کے لئے گئے اور بارہ بجے موسلا دھار مینہ برساتے اور بھیگتے ہوئے واپس آئے۔شہر میں مبارک سلامت کا شور برپا ہو گیا۔لوگوں نے یہی کہا کہ اس درگاہ میں عاجزی اور انکساری پسند ہے اسی وجہ اس فرقہ کی دُعا فوراً قبول ہوئی۔باقی سب مولوی، عالم، لمبی