آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 76
149 148 کو جلانے کے لئے لے تو چلے ہیں لیکن ایک نظر پھر ان کو دیکھ لیں تو ہماری تسلی دوسرے پرات مجرموں کے ساتھ مل کر ویسا ہی مفسد، ہنگامہ پرداز اور جرائم پیشہ بن جاتا ہے جیسے پرانے قیدی۔یعنی قیدیوں کے کپڑے پہنتے ہی اس کا اندرونہ ہو جائے گی۔میں نے باہر سڑک پر نکل کر ارتھی اُتروا کر دوبارہ نعش کو دیکھا اور یہی بھی یکدم بدل جاتا ہے۔اور چند دن کے اندر اُس کے شریفانہ چہرہ پر بداعمالی کہا کہ ”بھئی جاؤ اور اب تو ان کو چتا میں رکھنے کا وقت ہے۔موت میں کوئی کی لعنت برسنے لگتی ہے۔یہ لوگ اپنے لئے ایسا انتظام کر لیتے ہیں کہ افیون شبہ نہیں ہے۔اس پر وہ بچارے چلے گئے اور ارتھی کو مرگھٹ کی آگ کے سپرد کھانے والے کے لئے اندر ہی افیون پہنچ جاتی ہے اور تمباکو بیڑی ،سگریٹ پینے والے کو یہ سب چیزیں وہیں مل جاتی ہیں۔شراب، مٹھائیاں ، نقدی برائے کر دیا۔(87) جیل خانہ ، رشوت اور گڑ سب چیزیں باہر سے مہیا ہوتی رہتی ہیں۔اور پرانے قیدی تو وہاں ایسی ہی خوش زندگی بسر کرتے ہیں جیسی وہ اپنے وطن میں کرتے تھے۔جیل خانہ کا بھی ایک الگ عالم ہے۔جہاں کے قواعد اور قوانین دنیا لوٹ کھسوٹ، مار دھاڑ ، چوری، مظالم سارے کام جیل کے اندر بھی سے نرالے ہوتے ہیں۔باہر والوں کے نزدیک تو وہ دوزخ ہے مگر اندر رہنے اُسی طرح ہوتے ہیں جیسے باہر کی دنیا میں، بلکہ زیادہ۔اور بعض بدمعاشوں سے والے بعض لوگ اسے بہشت بھی سمجھتے ہیں۔ڈاکٹر یا سپرنٹنڈنٹ کے طور پر میرا تو افسر بھی ڈرتے ہیں۔مجھے سب سے عجیب تجربہ نشوں کے متعلق یہ حاصل ہوا تجربہ یہی ہے کہ ہمارے جیل بہت بڑی اصلاح کے محتاج ہیں۔خیر اصلاحات تو کہ ہمارے ملک میں بہت زیادہ لوگ افیم کھانے کے عادی ہیں اور تمباکو تو دنیا میں ہمیشہ ہوتی ہی رہیں گی۔مگر جیل کی زندگی ہوتی بڑی دلچسپ ہے یا قریباً ہر شخص ہی پیتا ہے۔(سوائے سکھوں کے ) اور بہت سے نہ پینے والے بھی اندر جا کر تمبا کو پینا شروع کر دیتے ہیں۔قیدی کی زندگی چونکہ ایک نہایت قیدی اُسے دلچسپ بنالیتے ہیں۔جیل میں مجرم سزا یافتوں اور ملزم زیر مقدمہ لوگوں کی الگ الگ باقاعدہ زندگی ہوتی ہے۔یعنی محنت، مشقت، بروقت نپی تلی خوراک، سونا، کھانا، بارکیں ہوتی ہیں۔جب تک لوگ بہ حیثیت ملزم جیل میں رہتے ہیں تب تک نہانا، رفع حاجت، ہر چیز ٹائم ٹیبل پر چلتی ہے۔اور ذرا سی بھی تکلیف ہو تو فطرتِ انسانی تو به استغفار، دعا، ذکر اور ورد و وظائف کی طرف اُن کو مجبور رکھتی ڈاکٹر، شفاخانہ، علاج اور پرہیزی کھانا اُن کے لئے موجود ہوتا ہے۔اس لئے کتبیجیں کھٹکتی ہیں۔ملزم نمازوں، آرتیوں اور مذہبی کتابوں کے پڑھنے میں اُن کی صحت عموماً بہت اچھی ہو جاتی ہے۔قیدی کو اپنے کپڑے پہننے کی اجازت مصروف رہتے ہیں اور عموماً ان کے مزاج میں رعونت اور شرارت نہیں ہوتی۔نہیں سوائے جوتی کے جوڑا کے جو باہر کے رشتہ دار ہرششماہی پر بھیج سکتے ہیں۔پھر جب مقدمہ ہو چکتا ہے تو یا تو ملزم رہا ہو جاتا ہے یا مجرم قرار پا کر قید ہو اور اکثر ان جوتیوں کے تلوں کے اندر روپے اور ریز گاری وغیرہ سلی ہوئی ہوتی جاتا ہے۔قیدی بنتے ہی وہ بالعموم سانپ کی طرح اپنی مصنوعی توبہ، نیکی اور ہے۔جب کوئی قیدی بھوک ہڑتال کرتا ہے تو اُسے فوراً الگ کوٹھڑی میں مقفل خشوع خضوع کی کینچلی اُتار پھینک دیتا ہے اور چوبیس گھنٹہ کے اندر اندر کر دیا جاتا ہے۔وہ بھی جانتا ہے کہ چلتے پھرتے رہنے یا کام کرنے سے میں ہے۔