آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 77
151 150 جلد کمزور ہو کر بھوک محسوس کرنے لگوں گا اس لئے وہ بھی اپنا کمبل زمین پر بچھا میری ملازمت کے پچھلے دس سالوں میں جیلوں کی قریباً کا یا پلٹ گئی کر مثل ایک پتھر کے بُت کے اپنے بستر پر لیٹ جاتا ہے اور کمبل اوڑھ کر بے تھی۔مگر ابھی بہت سی تفاصیل محتاج اصلاح ہیں۔جیل وارڈ اور پولیس کانسٹیبل حس و حرکت مُردہ کی طرح پڑا رہتا ہے۔تا کہ اُس کی گرمی اور قوت ضائع نہ کی ذہنیت میں کوئی فرق نہیں۔اس لئے جن باتوں میں اُن کا کوئی فرد بدنام ہو۔اکثر بھوک ہڑتال کرنے والے اپنا روزانہ کا کھانا تو واپس کر دیتے ہیں۔ہوتا ہے اُنہی باتوں میں اُن کے بھی بعض افراد بدنام ہیں۔مگر چرا چھپا کر اور لوگوں سے روٹی لے کر کھاتے رہتے ہیں۔اب پھانسی کا حال سنیئے :- یہ ایک خشک گنواں بارہ پندرہ فٹ گہرا پختہ بھوک ہڑتال والے کہتے ہیں کہ تین دن تک تو سخت بھوک لگتی ہے بنا ہوا ہوتا ہے اور اُس کے باہر اونچا کر کے آڑا ڈنڈا لگا ہوتا ہے۔جس میں پھر آہستہ آہستہ خواہش مرنی شروع ہو جاتی ہے اور ایک ہفتہ کے بعد بالکل بھائی کا رنہ پڑا ہوتا ہے۔کنوئیں کا منہ دو تختوں سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے اور مجرم مرجاتی ہے۔پانی یہ لوگ باقاعدہ پیتے رہتے ہیں۔مگر عموماً چند روز میں اُن اُن پر کھڑا کیا جاتا ہے۔پھر گلے میں رستے کا پھندا ڈال کر ایک ہینڈل کھینچ کی صلح جیل والوں سے ہو جاتی ہے اور بھوک ہڑتال ٹوٹ جاتی ہے۔جس لیتے ہیں۔جس سے وہ دونوں تختے کھل کر کنوئیں کی اندر کی طرف لٹک پڑتے میں اسٹرائیک کرنے والوں کو ہی 99 فیصدی شکست ہوتی ہے۔جھک مار کر ہیں۔مجرم رستے سے گردن کے بل معلق ہو جاتا ہے اور دم گھٹ کر ایک دو پھر کھانا کھانے لگ جاتے ہیں۔ہر قیدی کے پاس لوہے کی بالٹی و دال سالن منٹ میں اس کا کام تمام ہو جاتا ہے۔پھانسی کے وقت اور دن کی اطلاع مجرم رکھنے اور پانی پینے کے لئے ہوتی ہے۔جس کے کناروں کو اینٹ یا پتھر یا کو پہلے سے نہیں دی جاتی۔صرف ایک روز پہلے جب اُس کے عزیز اور رشتہ دیوار سے تیز کر کے وہ ایک دوسرے کی ڈاڑھیاں بھی مونڈ لیتے ہیں۔یا دار اُس سے ملنے آتے ہیں تب اُسے پتہ لگتا ہے کہ کل مجھے پھانسی ملے گی۔لڑائی کے وقت مخالف کو زخم پہنچاتے ہیں۔جیل کی مشقت میں بعض صورتیں عموماً رات بھر وہ جاگتا رہتا ہے مگر بعض لوگ سوتے بھی رہتے ہیں۔صبح کے تو جائز مشقت کی ہیں۔مثلا باغیچہ کا کام، اور ہر طرح کی باعزت انڈسٹری قریب غسل کر کے تیار ہو جاتا ہے۔پھر نیلے کپڑے پہنا کر اور ہاتھ رہتی سے جکڑ ،مگر بعض ذلیل گن ہیں۔مثلاً چکی پیسنا، اور بعض بد بودار کام بھی ہیں۔غذا کر اُسے پھانسی کے کنوئیں کے پاس لے جاتے ہیں۔کے متعلق پنجاب میں خاص کر تیل کا استعمال بہت شکایت کا موجب ہے پھانسی کے اختتام تک قیدیوں کی بارکیں بند رہتی ہیں۔مسلمان عموماً کیونکہ اس ملک میں عموماً لوگ گھی کھانے کے عادی ہیں۔سب سے زیادہ وہاں جاتے وقت یا علی“ کے نعرے لگاتے جاتے ہیں اور سکھ ”ست سری تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اس قہری گرم ملک میں گرمی کے سارے موسم بھر ان اکال کے اور سوائے ایک شخص کے جس نے عین وقت پر غل مچانا، منتیں کرنا لوگوں کو بند اور مقفل بارکوں یا کوٹھریوں میں سونا پڑتا ہے جو ناقابلِ اور بھاگنا شروع کیا تھا۔میں نے نہیں دیکھا کہ کسی عورت یا مرد نے اُس وقت برداشت امر ہے۔تعلیم کا کوئی انتظام نہیں۔سوائے بورسل جیل کے۔کپڑے کبھی شور وشر بر پا کیا ہو۔اور بعض مجرم تو اپنا یہ فرض سمجھتے ہیں کہ تختہ دار پر جرم کا اقرار کرلیں یا انکار۔مگر بعض خاموشی سے آتے ہیں اور خاموشی کے ساتھ ہی عموماً بہت معمولی ہوتے ہیں۔"