آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 75
147 146 چند دن کے بعد ایک اور بڑھے میاں بھی حرکت قلب بند ہونے سے کو بھی روزانہ ڈنک مارتے رہتے ہیں۔کوئی آٹھ روز کا ذکر ہے کہ بڑے لالہ کو اسی طرح یک دم مر گئے۔مگر بدقسمتی سے جب وہ مرے تو بیت الخلا میں اُن کا ایک زنبور نے کاٹ لیا۔جس کے بعد اُن کو بخار چڑھ گیا۔اور غفلت بھی ہو دم نکلا۔جہاں وہ اوندھے منہ نجاست کی بالٹی میں گرے ہوئے پائے گئے۔گئی۔سات دن اور سات رات وہ بیمار رہے۔نہ کھایا نہ پیا نہ ہوش آیا۔کل بس اتنی سی بات تھی۔پھر کیا تھا فوراً شہرہ ہو گیا کہ کمبخت دوزخی تھا جس کی جان آہستہ آہستہ حواس قائم ہوئے۔بخار بھی اُتر گیا۔کچھ دُودھ وغیرہ بھی پیا۔آج پاخانہ میں نکلی۔اس کو تو جہنم نے بھی قبول نہ کیا ہو گا۔مردود تھا۔! کہنے لگے کہ ”میں تو دوکان پر جاتا ہوں۔بہتیرا منع کیا باز نہ آئے۔آخر مرد!! کیسی بدبختی کی موت تھی۔بس لعنت تھی لعنت۔حالانکہ وہی ایک قسم دوکان پر پہنچے۔میں ساتھ تھا۔دوکان کھولتے ہی کھانڈ کے ایک گھڑے کو کی موت تھی مگر ذرا سے فرق کے ساتھ۔ایک بہشتی مشہور ہوگیا اور دوسرا دیکھا۔ایک زنبور اُس میں سے نکل کر سیدھا اُن کی ران میں چمٹ گیا۔بمشکل دوزخی۔تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ (86) موت کا فرشتہ تیے کی شکل میں پانی پت میں ایک دن میں دس بجے کے قریب شفاخانہ میں بیٹھا میں نے دھوتی ہٹا کر اُسے توڑ کر الگ کیا۔یہ دیکھئے کہ اس کے کاٹنے کا نیلا داغ اب بھی موجود ہے۔زنبور کا کاٹنا تھا کہ اُسی وقت گر کر بیہوش ہو گئے۔ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکلا۔آپ فرماتے ہیں کہ سرگباش ہو گئے۔میں نے کہا میں سمجھ گیا ان کے گردے کمزور تھے اور جسم میں سے زہر نکالنے کے قابل نہ۔" " بیماروں کو دیکھ رہا تھا کہ ایک کھانڈ کے تاجر لالہ صاحب گھبرائے ہوئے تشریف تھے۔پہلی دفعہ تو بچ گئے تھے اب کے چونکہ بہت زیادہ کمزور ہو چکے تھے اس لائے اور آتے ہی کہنے لگے کہ ” بڑے بھائی صاحب کو چل کر دیکھ لیجئے اُن کو لئے ختم ہو گئے۔لوگ کہنے لگے۔سانپ پر بیٹھا ہوا زنبور ہو گا۔“ میں نے لال زنبور (جسے تیا کہتے ہیں) نے کاٹ لیا ہے۔“ میں نے کہا ”پھر کیا ہوا؟“ کہا زنبور تو خاص طور پر زہریلا نہ تھا۔لیکن جسے کاٹا تھا وہ خاص طور پر کہنے لگے ”ذرا چلئے تو سہی وہ کچھ بیہوش سے بھی ہو گئے ہیں۔“ مجھے علم تھا کہ ان کی دوکان شفاخانہ سے کوئی سو گز کے فاصلہ پر ہے اور یہ مجھے لے جانے کے لئے آئے ہیں۔تو معمولی بات نہیں ہے۔غالبا بڑے لالہ صاحب فوت کمزور تھا۔“ ان لوگوں کو بڑے لالہ کے مرنے کا یقین نہ آتا تھا لیکن میں بہر حال ان سے کہہ کر چلا آیا کہ یہ بیمار نہیں ہیں بلکہ مُردہ ہیں۔دس بجے سے لے کر والے تھے آتے رہے اور اپنے اپنے علم کے جوہر دکھاتے رہے۔مگر مردے بھی کہیں زندہ ہوتے ہیں؟ آخر لاچار اور مایوس ہو کر ان کی ارتھی تیار کی اور ہوچکے ہیں۔خیر میں اسی وقت اُن کی دوکان پر پہنچا تو واقعی بڑے لالہ پر ان شام کے پانچ بجے تک جتنے بھی شہر میں ڈاکٹر، حکیم، وید اور جنتر منتر پڑھنے چھوڑ چکے تھے۔میں نے اُن لوگوں سے کہہ دیا کہ یہ تو فوت ہو چکے ہیں آپ اب ان کی ارتھی کا بندوبست کریں۔مگر یہ تو بتاؤ کہ بات کیا ہوئی تھی۔؟“ وہ شخص کہنے لگا کہ آپ جانتے ہیں ہماری دوکان میں کھانڈ ہی کھانڈ رہتی ہے مرگھٹ کو لے چلے۔راستہ میں میرا مکان پڑتا تھا۔مرنے والے کے رشتہ دار اور اُس پر ہزاروں بھڑیں اور زنبور ( تیے ) ہر وقت چھٹے رہتے ہیں جو ہم لوگوں پھر آئے اور کہنے لگے کہ ” آپ ہی سچے تھے مگر ہمارا دل نہیں مانتا تھا۔اب ان دو